உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ممکنہ شکست کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی نئی چال، اپوزیشن کے سامنے رکھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز

    عمران خان نے ممکنہ شکست کو دیکھتے ہوئے  اپوزیشن کے سامنے رکھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز

    عمران خان نے ممکنہ شکست کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن کے سامنے رکھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز

    Pakistan Political crisis: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپوزیشن کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ اگر وہ تحریک عدم اعتماد کو واپس لے لیتا ہے تو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز پاس کریں گے۔ حالانکہ عمران خان کے آفر کو اپوزیشن شاید ہی مانیں۔ کیونکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے 177 اراکین کی اکثریت حاصل ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان میں سیاسی بحران پوری طرح سے عروج پر ہے۔ چاروں طرف سے گھرتا ہوا دیکھ کر پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اب نیا پینترا چلا ہے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ ایسا کرکے وہ تحریک عدم اعتماد کو ٹالنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ اپوزیشن فلور ٹسٹ چاہتا ہے۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس حکومت بنانے کے لئے اکثریت ہے، لیکن عمران خان نے نئی چال چل کر صورتحال کو مزید گہرا کردیا ہے۔ واضح رہے کہ کچھ دیر بعد پاکستان کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر بحث ہونی ہے۔

      پاکستان کی جیو ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ عمران خان نے اپوزیشن کے سامنے یہ تجویز رکھی ہے کہ اگر وہ تحریک عدم اعتماد کو واپس لے لیتا ہے تو قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تجویز پاس کریں گے۔ حالانکہ عمران خان کے آفرکو اپوزیشن شاید ہی مانیں۔ کیونکہ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ ان کے 177 اراکین کی اکثریت حاصل ہے۔

      واضح رہے کہ پاکستان کے قومی اسمبلی میں عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز پر حتمی فیصلہ ہونے والا ہے، لیکن اس سے پہلے کئی ڈرامائی واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ گزشتہ روز پہلے یہ خبر تھی کہ عمران خان ملک کے نام خطاب کریں گے، لیکن پھر خبر آئی کہ عمران خان کا یہ خطاب آرمی چیف جنرل قمر باجوا اور آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم سے ملاقات کے بعد منسوخ کیا تھا۔ دوسری طرف یہ بھی خبر آئی تھی کہ اب عمران خان استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ بلکہ سیدھے قومی اسمبلی کے رخ کا انتظار کریں گے۔ اس سے قبل عمران خان نے کابینہ کی میٹنگ بلائی ہے۔ عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی ترجمان نیلم ارشاد شیخ نے کہا تھا کہ عمران خان استعفیٰ نہیں دیں گے۔ وہ منتخب وزیر اعظم ہیں۔ وہ آخری گیند تک میدان نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ملکی طاقتوں کی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں۔ 

      آرمی چیف قمر باجوا سے میٹنگ کے بعد عمران خان کا ملک کے نام خطاب منسوخ، کابینہ کی بلائی میٹنگ

      وہیں دوسری طرف پاکستان کے وزیر شیخ رشید (Sheikh Rashid) نے دعویٰ کیا تھا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف (Ex PM Nawaz Sharif) نے سال 2008 کے ممبئی حملے کے وقت ہندوستان کی مدد کی تھی۔ اس وقت نواز شریف نے ممبئی حملے میں شامل اجمل عامر قصاب (Ajmal Amir Kasab) کی لوکیشن کا سراغ ہندوستان کو دیا۔ اسی کے بعد اسے ہندوستانی ایجنسیوں نے گرفتار کرلیا تھا۔ بعد میں اسے پھانسی دے دی گئی۔ شیخ رشید اتنے پر ہی نہیں رکے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف (Nawaz Sharif) ان لیڈروں میں شمار ہوتے ہیں، جنہوں نے پیسوں کے لئے اپنے ضمیر کو بیچ دیا۔ پاکستان کی شبیہ کو نقصان پہنچایا۔ انہوں نے صدام حسین، معمر قذافی اور اسامہ بن لادن تک سے مالی مدد لی۔ واضح رہے کہ شیخ رشید پاکستان کے داخلی امور کے وزیر ہیں۔ انہیں وزیر اعظم عمران خان (Pakistan’s PM Imran Khan) کا قریبی مانا جاتا ہے۔ وہ اکثر اپنے بیانات سے سرخیوں میں رہتے ہیں۔ اکثر ان کے بیان عجیب وغریب ہی ہوتے ہیں۔ البتہ اس بار نواز شریف (Nawaz Sharif) کے بارے مین دیئے ان کے بیان کے پیچھے گہرے مطب پوشیدہ ہیں، ایسا کہا جا رہا ہے۔


      انتقام اپوزیشن کی ڈکشنری میں نہیں: شہباز شریف
      دوسری جانب اپوزیشن کے لیڈر اور وزیر اعظم عہدے کے دعویدار نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتقام لفظ اپوزیشن کی ڈکشنری میں نہیں ہے۔ ایم کیو ایم پی کے لیڈر خالد مقبول صدیقی نے حکومت سے حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ تاریخی ہے اور ملک کی قیادت کا یہ اصل امتحان ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: