உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان کے اقتدار سے باہر کی الٹی گنتی شروع، تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل ایک اور رکن پارلیمنٹ نے چھوڑا ساتھ

    Pakistan Imran Khan No Confidence Motion: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر کچھ اتحادی جماعتوں کے اتحاد سے ہٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت گرسکتی ہے۔ پاکستان کی 342 رکنی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 اراکین ہیں اور اسے لیڈر میں بنے رہنے کے لئے کم از کم 172 اراکین پارلیمنٹ کے حمایت کی ضرورت ہے۔

    Pakistan Imran Khan No Confidence Motion: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر کچھ اتحادی جماعتوں کے اتحاد سے ہٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت گرسکتی ہے۔ پاکستان کی 342 رکنی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 اراکین ہیں اور اسے لیڈر میں بنے رہنے کے لئے کم از کم 172 اراکین پارلیمنٹ کے حمایت کی ضرورت ہے۔

    Pakistan Imran Khan No Confidence Motion: پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر کچھ اتحادی جماعتوں کے اتحاد سے ہٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت گرسکتی ہے۔ پاکستان کی 342 رکنی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 اراکین ہیں اور اسے لیڈر میں بنے رہنے کے لئے کم از کم 172 اراکین پارلیمنٹ کے حمایت کی ضرورت ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے بحران میں گھری وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی حکومت کو گرانے کا عزم کیا ہے۔ عمران خان 2018 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اپنے سب سے مشکل سیاسی امتحان کا سامنا کر رہے ہیں۔ حالانکہ، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے لئے مصیبت منگل کو تب مزید بڑھ گئی، جب ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے ایک دیگر رکن پارلیمنٹ نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل پاکستان مسلم لیگ-نواز کی طرف چلے گئے۔

      فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے رکن چودھری عاصم ناظر نہ صرف پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) میں شامل ہوئے، بلکہ انہوں نے پی ٹی آئی کے پارلیمانی سکریٹری کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ناظر کو مبینہ طور پر ایک دن پہلے پاکستان کے معزول قائد نواز شریف کے بھائی اور مسلم لیگ-این کے صدر شہباز شریف کو پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔ چودھری عاصم ناظر 2018 میں پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے۔

      28 مارچ کو پارلیمنٹ میں پیش ہوا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد

      ذرائع کے مطابق، قومی اسمبلی (ایم این اے) کے موقف بدلنے والے اراکین کو پہلے ملک کی فوج اور آئی ایس آئی کے ذریعہ حکومت میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں جانکاری دی جارہی ہے۔ اس سے پہلے، پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیر کو اپوزیشن کے لیڈر شہباز شریف نے تحریک عدم اعتماد پیش کیا۔ تجویز دو دن کی چھٹی کے بعد پیش کیا گیا اور اس کی صدارت قومی اسمبلی کے نائب صدر قاسم خان سوری نے کی۔ تحریک عدم اعتماد پر آئندہ تین اپریل کو ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستان: 31 مارچ کو ہوگا Imran Khan کی قسمت کا فیصلہ، تحریک عدم اعتماد کی تجویز پر عمل شروع

      عمران خان کو 172 اراکین پارلیمنٹ کا ووٹ حاصل کرنا ضروری

      69 سالہ عمران خان اتحادی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں اور اگر کچھ اتحادی جماعتوں کے اتحاد سے ہٹنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کی حکومت گرسکتی ہے۔ پاکستان کی 342 رکنی قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 155 اراکین ہیں اور اسے لیڈر میں بنے رہنے کے لئے کم از کم 172 اراکین پارلیمنٹ کے حمایت کی ضرورت ہے۔

      8 مارچ کو اپوزیشن نے قومی اسمبلی میں پیش کی تھی عدم اعتماد کی تحریک

      اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)، جس میں پاکستان مسلم لیگ-نواز (پی ایم ایل-این) اور جمعیۃ علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-آئی) اور دیگر جماعتیں شامل ہیں، نے آٹھ مارچ کو قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کی تجویز سونپی تھی۔ اس تجویز کے پیش نظر ریلی کا انعقاد کیا گیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: