உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    EXCLUSIVE: فضیحت سے بچنے کی کوشش میں Imran Khan، آج اسلام آباد ریلی میں دے سکتے ہیں استعفیٰ

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کل اسلام آباد ریلی میں دے سکتے ہیں استعفیٰ!

    پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کل اسلام آباد ریلی میں دے سکتے ہیں استعفیٰ!

    غیرملکی فنڈنگ معاملے میں پیر کو گرفتاری کے درمیان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اتوار کو ہی اسلام آباد میں ہونے والی عوامی ریلی میں استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ذرائع نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔ ذرائع نے کہا کہ ریلی میں وہ جلد الیکشن کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی کارگزارحکومت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: غیرملکی فنڈنگ معاملے میں پیر کو گرفتاری کے درمیان پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان اتوار کے روز یعنی آج ہی اسلام آباد میں ہونے والی عوامی ریلی میں استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ذرائع نے ہفتہ کو یہ جانکاری دی۔ ذرائع نے کہا کہ ریلی میں وہ جلد الیکشن کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی کارگزارحکومت کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔

      CNN-News18 نے پہلے ہی بتایا تھا کہ عمران خان کو عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ذرائع نے کہا کہ فوج نے بھی سوشل میڈیا مہم کے ذریعہ سے فوج کو تقسیم کرنے کی عمران خان کی مبینہ کوششوں اور 2019 میں فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجواد کی مدت میں توسیع معاملے میں جان بوجھ کر تاخیر کے سبب ان پر اعتماد کھو دیا ہے۔

      عمران خان نے کہا تھا کسی بھی قیمت پر استعفیٰ نہیں دوں گا

      گزشتہ 23 مارچ کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔ حالانکہ برسراقتدار اتحاد کے کم از کم تین اتحادیوں نے عدم اعتماد کی تجویز کے دوران ان کی حکومت کے خالف ووٹنگ کرنے کا اشارہ دیا ہے، جو اس ماہ کے آخر میں پارلیمنٹ میں بحث کے لئے آئے گا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      او آئی سی میں Kashmir پربیان دے کرکیا غلطی کرگئے تھے چینی وزیرخارجہ؟

      عمران خان حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک

      پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل-این) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے تقریباً 100 اراکین پارلیمنٹ نے آٹھ مارچ کو قومی اسمبلی سکریٹریٹ میں عدم اعتماد تحریک کو نوٹس دیا تھا، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لیڈر اور وزیر اعظم عمران خان کی قیادت والی حکومت ملک میں اقتصادی بحران اور بڑھتی مہنگائی کے لئے ذمہ دار ہے۔

      حکومت میں بنے رہنے کے لئے 172 اراکین کی ضرورت

      342 رکنی قومی اسمبلی میں عمران خان کی پی ٹی آئی کو حکومت میں بنے رہنے کے لئے کم از کم 172 اراکین کی ضرورت ہے۔ برسراقتدار پی ٹی آئی کے تقریباً دو درجن غیر مطمئن اراکین عمران خان کے خلاف ووٹنگ سے پہلے کھل کر سامنے آگئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے اپوزیشن پر اراکین پارلیمنٹ کی خریدوفروخت کا الزام لگایا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: