உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عمران خان حکومت گئی تو پاکستان میں آگے کیا ہوگا؟ اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے ’مستقبل پلان‘

     عمران خان حکومت گئی تو پاکستان میں آگے کیا ہوگا؟ اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے ’مستقبل پلان‘

     عمران خان حکومت گئی تو پاکستان میں آگے کیا ہوگا؟ اپوزیشن کے پاس بھی نہیں ہے ’مستقبل پلان‘

    Pakistan Political Crisis: مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے فوج کے تعلقات بھی مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ حکومت گرنے کی دہلیز پر پہنچنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔ ایک وقت پاکستانی فوج کو ہی عمران خان کی حکومت کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار بتایا گیا تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر سے ہی عمران خان اور فوج کے درمیان تعلقات خراب ہونے شروع ہوگئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان میں عمران خان (Imran Khan) کی برسراقتدار پارٹی تحریک انصاف کی حکومت پر خطرے کے کالے بادل منڈلا رہے ہیں۔ حکومت کی حمایت دینے والی کئی پارٹیوں نے حمایت واپس لے لیا ہے اور اب اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد (No Confidence Motion) کے بعد اس بات کی زیادہ تر امید ہے کہ عمران خان کی حکومت اقتدار سے چلی جائے گی۔ اپوزیشن کو 342 اراکین پارلیمنٹ کی قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پر کل 172 اراکین پارلیمنٹ کی حمایت چاہئے۔

      پاکستان میں عمران خان کی حکومت گرنے کی دہلیز پر ہے۔ اب ماہرین اس بات پر گہری نظر بنائے ہوئے ہیں کہ آخر اس حکومت کے بعد پاکستان کا کیا ہوگا۔ اپوزیشن حکومت کو گرانے کے لئے متحد ہے، لیکن کیا اس کے پاس کوئی ایسا پلان ہے، جو ملک کو اقتصادی بحران اور مہنگائی جیسے مشکل حالات سے باہر نکال سکے۔ پاکستان میں سیاسی بحران پر بی بی سی کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بی بی سی کی اس رپورٹ میں کئی وجوہات کو بتایا گیا ہے، جس کی وجہ سے عمران خان آج اپنے سیاسی دور کے سب سے برے وقت کا سامنا کر رہے ہیں۔ آئیے جانتے ہیں ان وجوہات کو جن سے پاکستان مین سیاسی بحران پیدا ہوا ہے۔

      ملک اور حکومت کے درمیان رسہ کشی

      ویسے تو عمران خان حکومت جانے کے پیچھےغیر ملکی طاقتوں کی بات کر رہے ہیں، لیکن اس کی اصلی جڑ ان کے ہی ملک میں نظر آتی ہے۔ مسلسل تیزی سے بڑھتی مہنگائی اور بے قابو رفتار سے بڑھ رہے ملکی قرض نے عوام کا اعتماد کھو دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق، آپ پاکستان میں مہنگائی کا عالم کیا ہے، اس بات س اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جنوری 2020 سے مارچ 2022 تک ہندوستان میں رسدوخوارک کی مہنگائی شرح 7 فیصد ہے، لیکن وہیں پاکستان میں یہ 23 فیصد ہے۔

      مہنگائی کے ساتھ ساتھ پاکستان حکومت کے فوج کے ساتھ تعلقات بھی مسلسل خراب ہوتے چلے گئے۔ حکومت گرنے کی طرف قدم بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ ایک وقت پاکستانی فوج کو ہی عمران خان کی حکومت کو اقتدار میں لانے کا ذمہ دار بتایا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر سے ہی عمران خان اور فوج کے درمیان تعلقات خراب ہونے شروع ہوگئے تھے، جب عمران خان نے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے نئے سربراہ کی تقرری پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      عمران خان کی نئی چال، اپوزیشن کے سامنے رکھی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز

      کہاں ہوئی عمران خان سے چوک

      سنگا پور کے ایک ایکسپرٹ کی مانیں تو پاکستان میں جو آج بحران چھایا ہوا ہے، اس کے لئے خود عمران خان ذمہ دار ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی میں تقرریوں جیسا معاملہ ذاتی ہوتا ہے، جو عوامی نہیں کیا جاتا، لیکن عمران خان نے اسے عوامی کردیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے فوج کی ریڈ لائن کو پار کرلیا۔ انہوں نے بعد میں فوج کے پسندیدہ جنرل کو آئی ایس آی چیف بنانے پر رضا مندی ظاہر کردی، لیکن تک فوج اور حکومت کے درمیان ایک گہری کھائی بن چکی تھی۔

      مستقبل کا کیا پلان؟

      کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت نے کووڈ کے وقت میں لوگوں کے لئے جم کر کام کیا۔ ایک طبقہ کووڈ کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مثال بھی دیتا ہے کیونکہ 22 کروڑ کے اس ملک میں صرف 15 لاکھ کورونا کے کیسز آئے اور صرف 30 ہزار لوگوں کی وبا سے موت ہوئی۔ ایکسپرٹ مانتے ہیں کہ اگر مستقبل میں کوئی الیکشن ہوتا ہے تو یہ ایک بڑا موضوع بن سکتا ہے اور اسے عمران خان حکومت کی بڑی کامیابی اور ہیلتھ اسٹرکچر کے طور پر عوام کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: