உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تحریک عدم اعتماد پر پاکستان کے سپریم کورٹ میں سماعت، عمران خان کے وکیل کو CJP کی پھٹکار

    تحریک عدم اعتماد پر پاکستان کے سپریم کورٹ میں سماعت، عمران خان کے وکیل کو CJP کی پھٹکار

    تحریک عدم اعتماد پر پاکستان کے سپریم کورٹ میں سماعت، عمران خان کے وکیل کو CJP کی پھٹکار

    پاکستان (Pakistan) میں عمران خان (Imran Khan) کو وزیر اعظم عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اتوار کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو (No Confidence Motion) خارج کردیا، جس ے بعد یہ معاملہ پاکستان کے سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) میں عمران خان (Imran Khan) کو وزیر اعظم عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اتوار کو قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو (No Confidence Motion) خارج کردیا، جس ے بعد یہ معاملہ پاکستان کے سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ ابھی سماعت چل رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل کو بھی پھٹکار لگائی۔ عدالت نے کہا کہ یہاں سیاسی بات نہ کریں۔

      اتوار کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے معاملے پر ازخود نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا، ’سپریم کورٹ پارلیمنٹ کے معاملوں میں ایک حد تک دخل دینے کا حق رکھتا ہے۔ اسپیکر، وزیر اعظم اور صدر سمیت کئی لوگوں کو نوٹس جاری کیا تھا۔

      پیر کو سماعت میں پی پی پی کی طرف سے پیش ہوئے فاروق نائک نے عدالت سے فل بینچ بنانے کی اپیل کی۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ بینچ کو لے کر سوال کھڑا کریں گے تو ہم چلے جائیں گے اور دیگر معاملات میں بھی سماعت متاثر ہوگی۔ ابھی عدالت میں پانچ ججوں کی بینچ معاملے میں سماعت کر رہی ہے۔

      3:30 بجے ملک کو مخاطب کریں گے عمران خان

      عمران خان آج 3:30 بجے ملک کو خطاب کریں گے۔ اس سے پہلے اتوار کو پارلیمنٹ کی کارروائی 10 منٹ بھی نہیں چلی۔ ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد کو خارج کردیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی کو 25 اپریل تک ملتوی کردیا۔ اس کے کچھ دیر بعد عمران خان کی سفارش پر صدر جمہوریہ نے قومی اسمبلی تحلیل کردی۔ پاکستان کے صدر عارف علوی نے بڑا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کیئر ٹیکر وزیر اعظم کی تقرری تک عمران خان کو پاکستان کے وزیرا عظم بنے رہنے کا حکم دیا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: