'پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا اعتراف: پاکستان کے دہشت گردوں نے لڑی کشمیر میں 'لڑائی

عمران خان نے امریکی ارکان پارلیمنٹ کے سامنے یہ بھی قبول کیا کہ پاکستان میں گزشتہ 15 سالوں میں 40 دہشت گرد گروپ سرگرم رہے۔

Jul 25, 2019 07:50 AM IST | Updated on: Jul 25, 2019 12:00 PM IST
'پاکستانی وزیراعظم عمران خان کا اعتراف: پاکستان کے دہشت گردوں نے لڑی کشمیر میں 'لڑائی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں تقریبا 30 سے 40 'ہزار 'مسلح  افراد'  ہیں  جنہیں  افغانستان  یا  کشمیر  کے  کسی  حصے  میں  ٹریننگ  ملی  ہے  اور  جنہوں  نے  وہاں لڑائی لڑی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ حکومت نے ملک میں دہشت گرد گروپوں کے بارے میں امریکہ کو سچ نہیں بتایا۔

ہندوستان اور افغانستان الزام لگاتے رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کو اپنے یہاں پناہ گاہ مہیا کراتا ہے جس میں افغان طالبان، حقانی نیٹ ورک، جیش محمد اور لشکر طیبہ جیسی دہشت گرد تنظیمیں شامل ہیں۔

عمران خان بولے:۔ ' ہمارے اقتدار میں آنے تک حکومتوں کے پاس سیاسی طاقت نہیں تھی کیونکہ جب آپ دہشت گرد گروپوں کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارے یہاں اب بھی 30 سے 40 ہزار مسلح افراد لوگ ہیں جنہیں افغانستان یا کشمیر کے کسی حصے میں ٹریننگ ملی ہے اور جنہوں نے وہاں لڑائی لڑی ہے۔

انہوں نے کہا '2014میں  پاکستان  طالبان  نے  پیشاور میں آرمی  پبلک  اسکول  میں  150  بچوں کو موت کے گھاٹ  اتار دیا۔ تمام پارٹیوں نے نیشنل ایکشن پلان پر دستخظ کئے اور ہم سب نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستان میں کسی بھی دہشت گرد گروپ کو سرگرمیاں چلانے نہیں دیں گے'۔

Loading...

واضح رہے کہ تین دن کے امریکی دورے پر پہنچے پاک پی ایم عمران خان نے امریکی ارکان پارلیمنٹ کے سامنے یہ بھی قبول کیا کہ پاکستان کی گزشتہ حکومتوں نے امریکہ کو حقیقت نہیں بتائی۔ خاص کر گزشتہ 15 سالوں میں ملک میں 40 دہشت گرد گروپ سرگرم رہے۔

Loading...