ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستان کی نئی کرتوت، ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت 4000 دہشت گردوں کے نام ٹیررسٹ واچ لسٹ سے ہٹائے

عمران خان (Imran Khan) حکومت نے 4000 دہشت گردوں کے نام ٹیررسٹ واچ لسٹ سے ہٹا دیئے ہیں۔ سال 2008 میں ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ (Mumbai Terror Attack) حملےکا ماسٹرمائنڈ اورلشکرطیبہ (Lashkar-e-taiba) کا آپریشن کمانڈرذکی الرحمان لکھوی بھی شامل ہے۔

  • Share this:
پاکستان کی نئی کرتوت، ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ سمیت 4000 دہشت گردوں کے نام ٹیررسٹ واچ لسٹ سے ہٹائے
عمران خان حکومت نے ممبئی حملے کےماسٹر مائنڈ سمیت 4000 دہشت گردوں کے نام ٹیررسٹ واچ لسٹ سے ہٹا دیئے۔

اسلام آباد: ایک طرف جہاں پوری دنیا اورپاکستان (Pakistan) خود بھی سنگین وبا کورونا وائرس (Coronavirus) سے جدوجہد کر رہی ہے، اسی درمیان عمران خان (Imran Khan) حکومت نے 4000 دہشت گردوں کے نام ٹیررسٹ واچ لسٹ سے ہٹا دیئے ہیں۔ ایک آرٹیفیشل انٹلی جنس سے منسلک اسٹارٹ اپ نے دعویٰ کیا ہےکہ 4000 دہشت گردوں میں سال 2008 میں ممبئی میں ہوئے دہشت گردانہ حملے (Mumbai Terror Attack) کا ماسٹر مائنڈ اورلشکر طیبہ (Lashkar-e-taiba) کا آپریشن کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی بھی شامل ہے۔


نیویارک کےایک اسٹارٹ اپ کیسیلم نے دعویٰ کیا ہےکہ پاکستانی حکومت نے بھلے ہی دہشت گردی مخالف ہونےکا دعویٰ کیا ہو، لیکن گزشتہ ڈیڑھ سال میں گلوبل ٹیررسٹ واچ لسٹ سے 3800 سے زیادہ دہشت گردوں کےنام ہٹا دیئے ہیں۔ پاکستان نے نہ تو ابھی تک کسی کو اس کی اطلاع دی ہے اور نہ ہی ہٹانے سے پہلے کسی بین الاقوامی ادارے سے اس کی چرچا کی گئی تھی۔

عمران حکومت نے ہٹائے 1800 نام


عمران خان نے بھی اقتدار میں آنےکے بعد سے ابھی تک 1800 بدنام زمانہ دہشت گردوں کے نام اس فہرست سے ہٹا دیئے ہیں۔ عمران حکومت نے ہی ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ مانے جانے والے لشکرکے کمانڈر ذکی الرحمان لکھوی کا نام لسٹ سے باہر کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف (FATF) کے مطابق اکتوبر 2018 تک اس فہرست میں کل 7,600 نام تھے، جو اب گھٹ کر 3800 رہ گئے ہیں۔ عمران خان نے9 مارچ کو حکومت میں آنے کے بعد سے 27 مارچ تک ایک جھٹکے میں 1,069 نام اس لسٹ سے ہٹا دیئے۔ 27 مارچ کے بعد سے ابھی تک الگ الگ مواقع پر 800 اور نام اس لسٹ سے ہٹائے گئے۔

عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد سے ابھی تک 1800 بدنام زمانہ دہشت گردوں کے نام اس فہرست سے ہٹا دیئے ہیں۔
عمران خان نے بھی اقتدار میں آنے کے بعد سے ابھی تک 1800 بدنام زمانہ دہشت گردوں کے نام اس فہرست سے ہٹا دیئے ہیں۔


ایف اے ٹی ایف سے بچنےکی کوشش

ایف اے ٹی ایف (FATF) اس سال جون میں پاکستان کے منی لانڈرنگ سے27 نکات پر لئےایکشن کا جائزہ لینے والا ہے۔پاکستان کےخلاف جون 2018 سے نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ اگر پاکستان 27 نکات کو پورا کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ایف اے ٹی ایف اسے بلیک لسٹ میں ڈال سکتا ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لئے عمران حکومت نے یہ کوشش کی ہے۔ امریکی حکومت میں سابق پالیسی ایڈوائزر رہ چکے پیٹر پیٹیٹسکی کے مطابق بین الاقوامی پیمانہ یہ ہے کہ اگر واچ لسٹ سے دہشت گردوں کا نام ہٹایا جاتا ہے تو فوراً اس کی اطلاع فوری مالیاتی شعبہ کو دینی ہوتی ہے۔ پاکستان نے مشکوک دہشت گردوں کے نام ہٹاتے وقت ایسا نہیں کیا ہے۔
First published: Apr 21, 2020 05:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading