உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tehreek e Talibanکے ساتھ پاکستان نے پھر شروع کی بات، سیکورٹی فورس پر جان لیوا حملے کررہی ہے یہ دہشت گرد تنظیم

    دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے پاکستان۔

    دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان کے ساتھ بات چیت کررہا ہے پاکستان۔

    Tehreek e Taliban: ابھی تک کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق یہ افغانستان کے طالبان کی جانب سے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان بعض معاملات میں ثالثی کی نئی کوشش کا حصہ ہے۔

    • Share this:
      Tehreek e Taliban:آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کی قیادت میں ایک پاکستانی وفد نے افغانستان میں کالعدم دہشت گرد گروپ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے نمائندوں سے بات چیت کی۔ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کی سیکورٹی فورسز پر جان لیوا حملے کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں منگل کو میڈیا کو اطلاع دی گئی۔

      گروپ کے اراکین اور کابل میں سرکاری ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پیر کو کابل میں تھے۔ وہ حقانی نیٹ ورک کے ذریعے ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرنے آئے ہوئے تھے۔ افغان صحافی بل سروری نے ٹویٹ کیا، "پشاور آرمی کور کمانڈ کے سربراہ فیض حمید اپنے وفد کے ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کے لیے کابل آئے ہیں۔" حمید جون 2019 سے نومبر 2021 تک انٹر سروس انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سربراہ تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      NATO Membership:فن لینڈاورسوئیڈن کے نیٹومیں شامل ہونے کی بحث کے درمیان پوتن نے دیا بڑابیان

      ابھی تک کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر اس کی تصدیق نہیں کی ہے، لیکن رپورٹس کے مطابق یہ افغانستان کے طالبان کی جانب سے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان بعض معاملات میں ثالثی کی نئی کوشش کا حصہ ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Pakistan: پاکستان میں پیٹرولیم سبسڈی واپس لینے پرہوگا غور، جلد آئی ایم ایف سے مذاکرات طئے

      فوج کے خلاف ریمارک نشر نہیں کریں پاکستانی ٹی وی چینل
      دوسری جانب پاکستان کے ایک معروف ریگولیٹر نے ملک بھر کے ٹی وی چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوج اور عدلیہ کے خلاف ریمارکس نشر نہ کریں۔ اس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ٹی وی چینلز کو دانستہ یا غیر ارادی طور پر خلاف ورزی کرنے پر بھاری جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: