پاکستان کوبڑا جھٹکا، عمران خان کی کوششیں رائیگاں، قریبی دوست چین نے بھی کھینچ لیا ہاتھ

چین کے ذریعہ پاکستان میں سرمایہ کاری 72 فیصد تک کم ہوگیا ہے، اس کا مطلب واضح ہے کہ چین کی طرف سے اب پاکستان میں پیسہ نہیں لگایا جارہا ہے۔

May 22, 2019 04:44 PM IST | Updated on: May 22, 2019 05:02 PM IST
پاکستان کوبڑا جھٹکا، عمران خان کی کوششیں رائیگاں، قریبی دوست چین نے بھی کھینچ لیا ہاتھ

پاکستان کے مضبوط دوست چین نے بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑدیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کےلئے اس سال کچھ بھی اچھا نہیں ہورہا ہے۔ دہشت گردانہ واقعات کے بعد بین الاقوامی دباوجھیلنے کے بعد اقتصادی بحران کودورکرنے کے لئےآئی ایم ایف کےآگے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ وہیں اب پاکستان کے 'سدا بہاردوست' چین نے بھی اپنے ہاتھ کھینچ لئے ہیں۔

چین کےذریعہ پاکستان میں سرمایہ کاری 72 فیصد تک کم ہوگئی ہے، اس کا مطلب واضح ہےکہ چین کی طرف سےاب پاکستان میں پیسہ نہیں لگایا جارہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اقتصادی بحران کا حقیقی اثرپاکستان کےعوام پرپڑرہا ہے۔ رمضان کےمہینے میں ان پرجوگزررہا ہے، وہ شاید ہی کوئی سمجھ سکے۔ گرتے روپئے کے سبب پاکستان میں مہنگائی میں بہت اضافہ ہورہا ہے۔

Loading...

توکیا اب چین بھی چھوڑ رہا ہے پاکستان کا ساتھ

پاکستان کےاخبار'ڈان' کے مطابق اپریل میں چین کی طرف سے سرمایہ کاری 72 فیصدی گرکر6804 کروڑپاکستانی روپئے پرآگیا ہے۔ وہیں سال 2019 کے اپریل ماہ میں یہ 26,830 کروڑ پاکستانی روپئے تھا جبکہ ملک میں آنے والی غیرملکی سرمایہ کاری میں 42.6 گراوٹ آرہی ہے۔ یہ گرکرتین سال کے سب سے نچلے سطح پرآگیا ہے۔

pakistan-and-china

آپ کو بتادیں کہ حال میں چین نے پاکستان واقع دہشت گردانہ تنظیم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہرکوبین الاقوامی دہشت گرد قراردینےکےلئے اپنا ویٹوپاورہٹا دیا تھا۔ ہندوستان میں کئی حملے کرنے والے جیش محمد سربراہ کو یکم مئی سے عالمی دہشت گرد کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ چین کے کاونسلرشاوجون یاوو نے 1267 سمیتی کو بیجنگ کے تعاون کے یقین دہانی کرائی تھی۔

ایس بی پی کی وارننگ

State-Bank-of-Pakistan

پاکستان میں آئندہ مالی سال میں مہنگائی اپنےعروج پرہوگی۔ وہاں کے ٹاپ بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نےاسےلےکروارننگ جاری کی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعہ جاری یہ وارننگ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی طرف سے پاکستان کومل رہے 6 ارب ڈالرکے پیکیج کےدوران جاری کی گئی۔ ایسے میں اس پیکیج کولےکرحالات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ مانا جارہا ہےکہ اس کی شرح سود میں اضافہ ہوجائےگا۔

مہنگائی میں کیوں ہورہا ہے اضافہ؟

pakistan-stock-exchange

دن بدن ڈالرکےمقابلے کم ہوتے پاکستانی روپئےکا ہی نتیجہ ہےکہ مارچ میں پاکستان میں مہنگائی شرح گزشتہ پانچ سال کےسب سے اعلیٰ سطح 9.41 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اپریل میں یہ 8.8 فیصد درج کی گئی۔ اس سال اپریل جولائی کےدرمیان مہنگائی شرح 7 فیصد تک پہنچ گئی۔ گزشتہ سال اسی وقت یہ شرح 3.8 فیصد تھی۔ اقتصادی معاملات کےماہرین کہتے ہیں کہ ڈالرکی قیمت میں اضافہ ہونےاورروپئے کی گراوٹ سے پاکستان میں کوئی ایک طبقہ نہیں بلکہ سبھی لوگ متاثرہورہے ہیں۔

پاکستان میں ایکسپورٹ کے مقابلے امپورٹ زیاد ہوتا ہے۔ ایسے میں امریکی ڈالرکی قیمت بڑھنےسےامپورٹ پرزیادہ پیسہ خرچ کرنا پڑرہا ہے، لیکن ڈالرکی قیمت میں اضافہ طویل وقت تک برقراررہتا ہے تواس کے خطرناک نتائج ہوں گے۔ ڈالرکی قیمت میں اضافہ سے فوری طورپرمتاثرہونے والا اعلیٰ متوسط طبقہ ہے۔ اس کا مطلب ہےکہ وہ لوگ جو امپورٹ  کی گئی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں، ان کی امپورٹ لاگت میں اضافہ ہوگا، لہٰذا ان کی قیمتیں میں اضافہ ہوگا۔

Loading...