اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پاکستان: سکیورٹی فورسز نےوزیرستان میں خطرناک دہشت گردکوکیاہلاک، اسلحہ اور گولہ بارود برآمد

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔

    پاکستانی فوج نے یہ اطلاع دی۔ پاک فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ 2 دسمبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ انکاؤنٹرمیں دہشت گرد کمانڈر محمد نور عرف سرکئی مارا گرایا گیاہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Peshawar
    • Share this:
      پشاور:ایک عسکریت پسند کمانڈر، جو ہائی پروفائل دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے مطلوب تھا، پاکستان کے شورش زدہ شمال مغربی حصے میں سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا۔ فوج نے یہ اطلاع دی۔ پاک فوج کے میڈیا ونگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بتایا کہ 2 دسمبر کو شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ انکاؤنٹرمیں دہشت گرد کمانڈر محمد نور عرف سرکئی مارا گرایا گیاہے۔

      نور کو کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کو پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کئی دہشت گردانہ کارروائیوں اور اغوا اور تاوان کے متعدد مقدمات میں ملوث ہونے پر مطلوب تھا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں بدنام زمانہ دہشت گرد کمانڈر محمد نور عرف سرکئی مارا گیا۔ اس کے پاس سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ساتھ انکاؤنٹر میں پاک فوج کا ایک جوان شہید ہوگیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں

      افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے انچارج جمعے کو ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں بال بال بچ گئے۔ پاکستان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

      نامعلوم مسلح افراد نے افغانستان میں پاکستان کے مشن کے سربراہ عبید الرحمان نظامانی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ سفارت خانے کے احاطے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ لیکن ان کی حفاظت کے لیے تعینات سکیورٹی اہلکاروں نے انہیں بچالیا۔ اس حملے میں ایک سیکورٹی اہلکار شدید زخمی ہوا۔ ذرائع کے مطابق مشن کے سربراہ اور دیگر حکام کو عارضی طور پر پاکستان واپس بلایا جارہاہے۔ ہفتہ وار تعطیل کے باعث واقعہ کے وقت پاکستانی سفارتخانے میں کوئی کام نہیں ہورہاتھا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کامطالبہ کیاہے۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: