ہوم » نیوز » No Category

پاکستان : جموں وکشمیر کے معاملہ پر مظاہرے کرنے کی عمران خان کی اپیل پرپاکستانی صحافیوں نے دکھایا آئینہ

جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پاکستان کو دنیا بھر سے کہیں بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔ اب پاکستان نے اپنی ہی سرزمین پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ احتجاج آج یعنی جمعہ کی سہ پہر 12 سے 12.30 بجے تک ہوں گے۔ پاکستان کے قومی اسمبلی کے اسپیکر فخر امام نے کشمیر سے متعلق پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران یہ اطلاع دی۔

  • Share this:
پاکستان : جموں وکشمیر کے معاملہ پر مظاہرے کرنے کی عمران خان کی اپیل پرپاکستانی صحافیوں نے دکھایا آئینہ
۔(تصویر:نیوز18 اردو)۔

جموں وکشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پاکستان کو دنیا بھر سے کہیں بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔ اب پاکستان نے اپنی ہی سرزمین پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ احتجاج آج یعنی جمعہ کی سہ پہر 12 سے 12.30 بجے تک ہوں گے۔ پاکستان کے قومی اسمبلی کے اسپیکر فخر امام نے کشمیر سے متعلق پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران یہ اطلاع دی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشورے پر جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔ وہیں پاکستان کے وزیرریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس دوران احتجاج کے طور پر پورے ملک کی ٹرینوں کو ایک منٹ کے لئے روکا جائے گا۔

کشمیرآور کا اعلان

اس دوران انٹرسروس پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر میجرجنرل آصف غفور نے کہا کہ 'کشمیر آور' جمعہ کو منایا جائے گا۔ اس دوران ، ملک بھر میں مظاہرے ہوں گے اور ٹرینوں کو ایک منٹ کے لئے روک دیا جائے گا۔ اس دوران پاکستان اور کشمیر کا قومی ترانہ بجایا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ ہفتے کے شروع میں ہی ، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ 30 اگست سے ہر ہفتے، ملک میں 12 سے 12.30 کے درمیان کشمیر کے عوام کے لئے پروگرام شروع کیے جائیں گے۔

پاکستانی صحافیوں نے عمران حکومت کو دکھایا آئینہ عمران حکومت کی جانب سے احتجاج کی اپیل کے بعد پاکستانی صحافیوں نے انہیں آئینہ دکھایا ہے۔ بہت سارے صحافیوں نے لکھا ہے کہ عمران خان کو پہلے دیکھنا چاہئے کہ وہ اپنے ملک میں کیا کررہے ہیں۔ بہت سارے پاکستانی صحافی مسلسل سوشل میڈیا پراس اپیل کا مذاق اڑارہے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ نائلہ عنایت ، جو اکثر ان مسائل پرٹویٹر پرلکھتی ہیں، نے بھی ایک طنزیہ لکھا، بریکنگ، پاکستان۔ ہندوستان سے آنے والی ہوا اور پانی کو 12 سے 1230 بجے کے درمیان بند کردے گا۔   ہندوستان نے کیا اپنا کام ، اب ہماری باری جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندرمودی، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقاتکے دوران انہوں نے کہا کہ کشمیرہندوستان کا داخلی معاملہ ہے۔ اس کے بعد پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہندوستانکو جو کچھ کرنا تھا اسے کردیاہے ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہندوستان نے اپنا ٹرمپ کارڈ چلایا ہے اور اب ہماری باری ہے۔ یادرہے کہ مسئلہ کشمیر پر، پاکستان نے متعدد ممالک کے ساتھ مدد کی درخواست کی ہے ، لیکن اسے چین کے علاوہ تقریبًا ہرملک سے مایوسی کا سامنا ہوا ہے۔واضح رہے کہ فرانس ، امریکہ ، روس اور برطانیہ نے کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کو ہندوستان کا داخلہ معاملہ قراردیاہے۔ ہندوستان کومایوسی کا سامنا پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کو ایک خط لکھا تھا اور انہیں مسئلہ کشمیر سے آگاہ کیا تھا۔ اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے اس سلسلے میں مشاورتی اجلاس منعقد کیاگیا۔ہندوستان نے اس مشاورتی اجلاس کوروکنے کے لئے پوری کوشش کی ، لیکن ان انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی ۔ جموں وکشمیر کے معاملہ پرچین کا موقف چین نے مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ساتھ بند دروازہ اجلاس کی بھی کوشش کی۔ لیکن اس دوران یو این ایس سی نے کہا تھا کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان معاملہ ہے اور انہیں باہمی بات چیت کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے۔ اہم بات یہ ہے کہ کشمیر میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے پاکستان بوکھلاہٹ کا شکارہوگیاہےاورپاکستان نے ہندوستان کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات ختم کردیئے ہیں۔ اس دوران ، دونوں ممالک کے درمیان مابین تجارت کو بند کرنے کے علاوہ ،سمجھوتا اور تھر ایکسپریس ٹرینوں کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس معاملے پر ، ہندوستان یہ کہتا رہا ہے کہ جموں و کشمیر سے متعلق ہر فیصلہ ان کا داخلی معاملہ ہے اور پاکستان کو اس معاملے میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔
First published: Aug 30, 2019 09:13 AM IST