میڈیا کا دعوی ، فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا پاکستان

فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو راحت کی خبر ملی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف نے طے کیا ہے کہ پاکستان کو فروری 2020 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا ۔

Oct 16, 2019 07:54 PM IST | Updated on: Oct 16, 2019 07:54 PM IST
میڈیا کا دعوی ، فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا پاکستان

میڈیا کا دعوی ، فروری 2020 تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا پاکستان

فائنانشیل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پاکستان کو راحت کی خبر ملی ہے ۔ ایف اے ٹی ایف نے طے کیا ہے کہ پاکستان کو فروری 2020 تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے گا ۔ ساتھ ہی پاکستان کو ہدایت دی گئی ہے کہ ٹیررفنڈنگ اور منی لانڈرنگ کو پوری طرح سے ختم کرنے کیلئے مزید سخت اقدامات کرے ۔ پیرس میں منگل کو ہوئی میٹنگ میں ایف اے ٹی ایف نے ٹیرر فنڈنگ کو روکنے کیلئے پاکستان کی جانب سے اب تک کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ۔ اب ایف اے ٹی ایف پاکستان پر حتمی فیصلہ فروری 2020 میں ہی کرے گا ۔

ایف اے ٹی ایف کے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کے فیصلہ کا باضابطہ اعلان جمعہ کو کیا جائے گا ۔ ایف اے ٹی ایف کے جاری سیشن کا آخری دن بھی جمعہ ہی ہے ۔ حالانکہ پاکستان کی وزارت خزانہ کے ترجمان عمر حمید خان نے گرے لسٹ میں برقرار رہنے کی رپورٹ کو خارج کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ بھی سچائی نہیں ہے ۔ 18 اکتوبر سے پہلے کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے ۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ٹاسک فورس کی سفارشات نافذ کرنے کیلئے چار ماہ کا وقت دیا ہے ۔

Loading...

ایف اے ٹی ایف کی پیرس میں ہوئی میٹنگ میں پاکستان کے مالی امور کے وزیر حماد اظہر نے بتایا کہ ان کے ملک نے ٹیرر فائنانسنگ کو روکنے کیلئے طے 27 معیارات میں سے 20 کو نافذ کردیا ہے ۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق چین ، ترکی اور ملیشیا نے پاکستان کی جانب سے کئے گئے اقدامات کی تعریف کی ۔ ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں نہیں آنے کیلئے پاکستان کو تین ممالک کی حمایت کی ضرورت تھی ، جو اس نے ان تینوں ممالک کے طور پر حاصل کرلیا ۔ میٹنگ میں ہندوستان نے کہا کہ اسلام آباد نے دہشت گرد حافظ سعید کو منجمد کھاتہ سے پیسہ نکالنے کی منظوری دی ہے ، لہذا پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالا جانا چاہئے ۔

پیرس میں ہوئی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں 205 ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ علاوہ ازیں آئی ایم ایف ، اقوام متحدہ ، ورلڈ بینک سمیت کئی دیگر بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے بھی میٹنگ میں موجود رہے ۔

Loading...