உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان سے افغانستان جا رہی مدد لوٹ رہا ہے پاکستان، رپورٹ میں ہوا انکشاف

    خاما ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی کو طالبان کے سیکورٹی افسران نے ہیلمند صوبہ میں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرکے پاکستان جا رہے گیہوں لدے 50 ٹرکوں کو روکا۔

    خاما ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی کو طالبان کے سیکورٹی افسران نے ہیلمند صوبہ میں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرکے پاکستان جا رہے گیہوں لدے 50 ٹرکوں کو روکا۔

    خاما ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی کو طالبان کے سیکورٹی افسران نے ہیلمند صوبہ میں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرکے پاکستان جا رہے گیہوں لدے 50 ٹرکوں کو روکا۔

    • Share this:
      اسلام آباد: ہندوستان سے افغانستان بھیجی جا رہی ہے انسانی مدد کو پاکستان اسمگلنگ اور ہتھکنڈے اپناکر لوٹنے میں لگا ہے۔ ایک بار افغانستان پہنچنے کے بعد گیہوں بھرے ٹرک واپس پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ میں جانکاری دی گئی ہے۔

      خاما ایکسپریس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی کو طالبان کے سیکورٹی افسران نے ہیلمند صوبہ میں غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرکے پاکستان جا رہے گیہوں لدے 50 ٹرکوں کو روکا۔ ہیلمند صوبہ میں طالبان کی اطلاع اور ثقافتی ڈائریکٹر حافظ رشید ہیلمندی نے بتایا، ’30 مئی کو ہیرات-قندھار ہائی وے پر گیہوں سے لدے دیگر ٹرک بھی پکڑے گئے تھے۔ یہ گیہوں ہیلمند صوبہ کے واشر کی کمپنی کے ٹرکوں میں تھا‘۔

      ہندوستان نے گزشتہ ہفتے افغانستان کو بھیجی جا رہی انسانی مدد کی نگرانی اور ڈیلیوری عمل دیکھنے کے لئے افسران کی ایک ٹیم کابل بھیجی تھی۔ اس نے طالبان کے افسران کے ساتھ نئی دہلی سے بھیجی گئی مدد پر بات چیت بھی کی۔

      طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے یہ اپنی طرح کا پہلا دورہ تھا۔ افغان سماج کے سبھی طبقات نے ہندوستان کی ترقی اور انسانی مدد کا دل کھول کا استقبال کیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستان کو بھی پاکستانی لوٹ کی خبر ہے۔ اسی لئے یہ ٹیم طالبان سے بات چیت کرنے کے لئے بھیجا تھا۔

      ہندوستان نے ایران کے راستے مدد بھیجنے کی تجویز پیش کی

      ہندوستان نے مدد پاکستان کے بجائے ایران کے چابہار پورٹ سے ہوکر بھیجنے پر طالبان کی رضامندی مانگی ہے۔ باقی مدد اپنے مغربی ساحل واقع ممبئی، کانڈلا یا مندورا پورٹ سے ایران کے چابہار بھیجنے کی تجویز پیش کی ہے۔ یہاں سے یہ زمین کے راستے ہیرات ہوکر پہنچ سکتا ہے۔ اس سے پنجاب سرحد پر خراب ہونے والا وقت بھی بچے گا، جہاں ہندوستان ٹرک خالی ہونے کے انتظار میں لمبے وقت تک لائن میں لگے رہتے ہیں۔ خبروں کے مطابق، طالبان نے بھی روٹ تبدیلی پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ (ایجنسی اِن پُٹ کے ساتھ)

      انجلی پرماکر کی رپورٹ
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: