اپنا ضلع منتخب کریں۔

    Pakistan crisis: کیا جنرل مشرف جیسا ہوگا عمران خان کا حال؟ اقتدار نہیں ملی تو یہ ہوگی سزا

    پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے، اس سے ملک میں 90 دنوں کے اندر عام انتخابات ہونے ہیں۔ اگر الیکشن میں اپوزیشن کی جیت ہوتی ہے تو عمران خان پر ملک سے غداری کا معاملہ چل سکتا ہے۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے، اس سے ملک میں 90 دنوں کے اندر عام انتخابات ہونے ہیں۔ اگر الیکشن میں اپوزیشن کی جیت ہوتی ہے تو عمران خان پر ملک سے غداری کا معاملہ چل سکتا ہے۔

    پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے، اس سے ملک میں 90 دنوں کے اندر عام انتخابات ہونے ہیں۔ اگر الیکشن میں اپوزیشن کی جیت ہوتی ہے تو عمران خان پر ملک سے غداری کا معاملہ چل سکتا ہے۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) کے سیاسی گھمسان میں عمران خان (Imran Khan) وزیر اعظم کا عہدہ گنوا چکے ہیں اور اب وہ الیکشن میں لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے تحریک عدم اعتماد خارج کروا کر اپنی عزت تو بچائی، لیکن یہی داوں ان پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ سیاسی ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ اپوزیشن متحد ہوگیا ہے، اگر اس الیکشن میں عمران خان کو اقتدار نہیں ملا تو انہیں سزا ضرور ملے گی۔ پاکستان کی قومی اسمبلی تحلیل ہوچکی ہے، اس سے ملک میں 90 دنوں کے اندر عام انتخابات ہونے ہیں۔ اگر الیکشن میں اپوزیشن کی جیت ہوتی ہے تو عمران خان پر ملک سے غداری کا معاملہ چل سکتا ہے۔

      اپوزیشن لیڈر کئی محاذوں پر عمران خان کو ملک کا غدار کہہ چکے ہیں۔ عمران خان کا حال جنرل پرویز مشرف جیسا بھی ہوسکتا ہے۔ ایک وقت نواز شریف حکومت نے پرویز مشرف کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا تھا اور عدالت سے پھانسی کی سزا دلوائی تھی۔ حالانکہ پرویز مشرف ابھی پاکستان سے دور دبئی میں ہیں۔ پاکستان میں تمام قیاس آرائیوں اور افواہوں کا دور جاری ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      حجاب تنازعہ میں القاعدہ کی انٹری! خفیہ ذرائع نے کیا بڑا انکشاف!

      سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکشن کا نتیجہ ہی تصویر صاف کرے گا۔ اگر عمران خان کی پارٹی، اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو اپوزیشن ان سے بدلہ ضرور لے گا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے بھائی اور اب اپوزیشن کے لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد خارج کروا کر آئین کے خلاف کام کیا ہے۔ واضح رہے کہ عمران خان نے پاکستان قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد خارج کروا دیا تھا اور اس کے بعد صدر عارف علوی سے مل کر ملک میں غیر ملکی سازش کا حوالہ دیا تھا۔ پاکستانی صدر نے بھی قومی اسمبلی تحلیل کرواکر ملک میں عام انتخابات کا اعلان کردیا تھا۔

      پرویز مشرف جیسا حال نہ ہوجائے

      سیاسی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عمران خان کا حال پرویز مشرف جیسا ہوسکتا ہے۔ 1999 میں پاکستان آرمی کے اس وقت کے چیف پرویز مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ پلٹ کردیا تھا۔ پہلے نواز شریف کو نظر بند کیا اور اس کے بعد جیل میں ڈال دیا تھا۔ پرویز مشرف پاکستان کے صدر بن گئے اور اگست 2008 تک عہدے پر بنے رہے۔ پرویز مشرف کو صدر کا الیکشن لڑنے سے روکنے کے لئے اپوزیشن نے سپریم کورٹ میں عرضی ڈال دی تھی۔ تب پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی۔ کچھ وقت بعد انہیں الیکشن کرانے پڑے تو پی پی پی اقتدار میں آئی تھی اور پھر پرویز مشرف نے اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ اس کے بعد جب 2013 میں پاکستان مسلم لیگ نواز (PML-N) اقتدار میں آئی اور نواز شریف وزیر اعظم بنے تو انہوں نے پرویز مشرف پر ملک سے غداری کا معاملہ درج کرایا تھا۔ پرویز مشرف علاج کے لئے دبئی چلے گئے اور پھر لوٹے ہی نہیں، اس درمیان مقدمہ چلا اور انہیں پھانسی کی سزا ہوئی تھی، جسے انہوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج دیا تھا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: