உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan politics: ملئے پاکستان کے نئے ‘شاہکار‘ شہباز شریف سے، جو بن سکتے ہیں عمران خان کی جگہ وزیر اعظم

    شہباز شریف: ملئے پاکستان کے نئے ‘شاہکار‘ سے، جو بن سکتے ہیں اگلے وزیر اعظم

    شہباز شریف: ملئے پاکستان کے نئے ‘شاہکار‘ سے، جو بن سکتے ہیں اگلے وزیر اعظم

    Pakistan politics: سپریم کورٹ کی مداخلت سے پھر سے بحال کی گئی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد کچھ ہی دیر میں فیصلہ ہونے کا امکان ہے کہ عمران خان وزیراعظم بنے رہیں گے یا کلین بولڈ ہوجائیں گے۔ زیادہ امکان یہی نظر آرہا ہے کہ عمران خان اپنی کرسی بچا نہیں پائیں گے۔ ایسے میں آئندہ وزیر اعظم کے طور پر جو نام سب سے زیادہ ابھر کر آرہا ہے، وہ ہے شہباز شریف کا۔ عمران خان کے خلاف بغاوت کی قیادت شہباز شریف ہی کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کی قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف پیش تحریک عدم اعتماد پر کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت سے پھر سے بحال کی گئی پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے بعد کچھ ہی دیر میں فیصلہ ہونے کا امکان ہے کہ عمران خان وزیراعظم بنے رہیں گے یا کلین بولڈ ہوجائیں گے۔ زیادہ امکان یہی نظر آرہا ہے کہ عمران خان اپنی کرسی بچا نہیں پائیں گے۔ ایسے میں آئندہ وزیر اعظم کے طور پر جو نام سب سے زیادہ ابھر کر آرہا ہے، وہ ہے شہباز شریف کا۔ عمران خان کے خلاف بغاوت کی قیادت شہباز شریف ہی کر رہے ہیں۔ انہوں نے عمران خان کا موازنہ ہٹلر سے کرتے ہوئے کہا کہ ہم انہیں حمام میں ننگا کریں گے۔ آئیے بتاتے ہیں 70 سالہ شہباز شریف سے متعلق کچھ خاص باتیں۔

      شہباز شریف پاکستان کے تین بار وزیر اعظم رہ چکے نواز شریف کے چھوٹے بھائی ہیں اور سیاست میں ایک جانا مانا نام ہیں۔ شہباز شریف کو ان کی سیدھی فلیٹ ورک اسٹائل کے لئے جانا جاتا ہے۔

      شہباز شریف پاکستان کے سب سے زیادہ آبادی والے پنجاب صوبہ کے تین بار کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ رہنے کے دوران شہباز شریف نے وہاں کئی بڑے انفرا اسٹرکچر پروجیکٹوں پر کام کرایا تھا۔ ان میں لاہور میں ملک کا پہلا ماڈرن ماس ٹرانزٹ ٹرانسپورٹ سسٹم بھی شامل تھا۔

      اپنے بھائی نواز شریف سے ہٹ کر شہباز شریف اکثر پاکستان کی فوج سے بھی بہتر تعلقات بناکر رکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں وہی اقتدار میں رہ سکتا ہے، جس کے اوپر آرمی کے جنرلوں کا ہاتھ ہو۔ اس وقت بھی فوج شہباز شریف کے حق میں نظر آرہی ہے۔

      عمران خان کے الٹ شریف فیملی کو ہندوستان کے تئیں بھی زیادہ سخت نہیں مانا جاتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ کچھ دنوں سے عمران خان کئی مواقع پر ہندوستان کی تعریف کرچکے ہیں۔ سال 2015 میں جب نوازشریف پاکستان کے وزیر اعظم تھے، تب وزیر اعظم نریندر مودی نے اچانک ان کے گھر لاہور پہنچ کر سب کو حیران کر دیا تھا۔

      شہباز شریف کی پیدائش لاہور کے ایک امیر صنعت کار فیملی میں 1951 میں ہوئی تھی۔ انہون نے وہیں پر تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد فیملی کا بزنس سنبھالا۔ وہ پاکستان میں ایک اسٹیل کمپنی کے بھی مالک ہیں۔

      80 کی دہائی میں وہ سیاست میں اتر آئے۔ 1988 میں انہوں نے پہلا الیکشن لاہور اسمبلی کا جیتا۔ 1990 میں اسمبلی تحلیل ہونے پر ہوئے الیکشن میں انہوں نے پھر سے جیت درج کی۔ 1993 میں انہوں نے لاہور اسمبلی کے ساتھ ساتھ قومی اسمبلی کا الیکشن بھی جیتا، لیکن قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔

      شہباز شریف 1997 میں پہلی بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے۔ 1999 میں جب پرویز مشرف کی قیادت میں فوج نے تختہ پلٹ کیا تھا، تب شہباز شریف کو بھی جیل دیا گیا تھا۔ سال 2000 میں انہیں سعودی عرب جلاوطن کردیا گیا۔ سال 2007 میں شہباز شریف اور ان کی فیملی پھر سے پاکستان لوٹی۔

      لمبی جلا وطنی سے لوٹنے کے بعد 2008 میں شہباز شریف پھر پنجاب کے وزیر اعلیٰ بن گئے۔ سال 2013 میں ہوئے الیکشن میں شہباز شریف کو تیسری بار پنجاب صوبہ کا وزیراعلیٰ منتخب کیا گیا۔

      سال 2017 میں جب پناما پیپرس لیک معاملہ کے بعد نواز شریف کو جائیداد چھپانے کا قصور وار قرار دیا گیا تھا، تب شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ - نواز کے صدر بنے۔ اسی کے ساتھ وہ پہلی بار قومی سیاست میں ابھر کر آئے۔

      سال 2018 کے عام انتخابات میں PML-N نے شہباز شریف کو وزیر اعظم عہدے کا امیدوار بنایا، لیکن اس الیکشن میں عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف کی جیت ہوئی۔ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر بنے۔ تبھی سے وہ اپوزیشن کے سب سے بڑے لیڈر کے طور پر عمران خان کے خلاف محاذ سنبھالے ہوئے ہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: