உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیاست سے دور رہے گی پاکستانی فوج؟ آرمی چیف جنرل باجوا نے عوام سے کیا یہ بڑا وعدہ

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا۔ (فائل فوٹو)

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا۔ (فائل فوٹو)

    پاکستان (Pakistan) کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے ملک کو مطمئن کیا ہے کہ پاکستانی فوج (Pakistan Army) نے خود کو سیاست سے دور کرلیا ہے اور وہ آگے بھی یہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا میں بدھ کو شائع کی گئی ایک خبر میں یہ جانکاری دی گئی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان (Pakistan) کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے ملک کو اطمینان دلایا ہے کہ مسلح اہلکاروں (Pakistan Army) نے خود کو سیاست سے دور کر لیا ہے اور وہ آگے بھی یہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ میڈیا میں بدھ کے روز شائع ایک خبر میں یہ جانکاری دی گئی ہے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق، جنرل قمر باجوا نے بھی تین سال کی اپنی مدت کار نومبر میں مکمل کرنے کے بعد عہدہ چھوڑنے کا اپنا وعدہ دوہرایا اور کہا کہ وہ پہلے کئے گئے اپنے وعدے کو پورا کریں گے۔ باجوا فی الحال امریکہ میں ہیں۔

      فوجی سربراہ (سی او اے ایس) جنرل قمر جاوید باجوا 29 نومبر کو ریٹائرڈ ہوں گے۔ باجوا کو سال 2019 میں دوسری مدت کار کے لئے تین سال کی سروس میں توسیع دی گئی تھی۔ انہوں نے واشنگٹن واقع پاکستانی سفارت خانہ میں منعقدہ دوپہر کے کھانے (لنچ) پر یہ تبصرہ کیا۔ میڈیا کے مطابق، اس موقع پر موجود ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنرل قمر جاوید باجوا نے کہا کہ مسلح اہلکاروں نے خود کو سیاست سے دور کرلیا ہے اور وہ آگے بھی ایسے ہی رہنا چاہتے ہیں۔ یہ تبصرہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے ذریعہ فوج مخالف بیان دینے کے پیش نظر آیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      جموں وکشمیر: امت شاہ نے بارہمولہ ریلی میں کہا- ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان سے بات کرو، لیکن میں کہتا ہوں...‘

      یہ بھی پڑھیں۔

      جموں وکشمیر: امت شاہ نے کہا- پہلے یہ دہشت گردی کا ہاٹ اسپاٹ تھا، اب ہے یہ ٹورازم ہاٹ اسپاٹ

      فوجی سربراہ کی تقرری وزیر اعظم کا خصوصی اختیار

      جنرل قمر جاوید باجوا 6 سال تک پاکستانی فوج کے اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں۔ انہیں شروعات میں 2016 میں مقرر کیا گیا تھا، لیکن تین سال کی مدت کے بعد، سال 2019 میں عمران خان کی موجودہ حکومت نے ان کی سروس کو مزید تین سال کے لئے بڑھا دیا۔ فوجی سربراہ کی تقرری واحد وزیر اعظم کا خصوصی اختیار ہے۔ نئے فوجی سربراہ کی آئندہ تقرری مختلف وجوہات سے سرخیوں میں ہے۔ جب عمران خان اقتدار میں تھے، اپوزیشن نے ان پر اپنی پسند کے ایک فوجی سربراہ کو لانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا تھا، جو اپوزیشن لیڈران کو ہراساں کرنے کے ان کے (عمران خان کے) ایجنڈے پر عمل کرسکے۔

      مضبوط معیشت کے بغیر سفارت کاری نہیں ہو سکتی

      جب سے انہوں نے اقتدار گنوائی ہے، حالات بدل گئے ہیں اور اب عمران خان کہہ رہے ہیں کہ اتحادی حکومت لوٹی گئی جائیداد کی حفاظت اور عام انتخابات میں اپنی منمانی کرنے کے لئے اپنی پسند کا ایک فوجی سربراہ بٹھانا چاہتی ہے۔ جنرل باجوا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی خراب معیشت کو بہتر کرنا سبھی کی اولین ترجیح ہونی چاہئے، کیونکہ ملک ایک مضبوط معیشت کے بغیر اپنے اہداف کو حاصل کرنے کا اہل نہیں ہوگا۔ کئی پاکستانی سفارتکاروں اور دیگر معززین سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ 'مضبوط معیشت کے بغیرکوئی سفارت کاری نہیں ہو سکتی ہے'۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: