உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    POK کو پاکستانی صوبہ بنانے کی کوشش ناکام، حکومت نے واپس لیا15ویں آئینی ترمیم والا بل

    پاکستانی پرچم (فائل فوٹو)

    پاکستانی پرچم (فائل فوٹو)

    یہ ترمیم بلدیاتی انتخابات کے عمل سے متعلق ہے۔ جبکہ پی او کے علاقے کے لوگوں میں اسلام آباد کو لے کر زبردست عدم اطمینان ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Jammu | Ladakh | Delhi | Hyderabad | Mumbai
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر(پی او کے) کو صوبہ کا درجہ دینے کا دم بھرنے والے پاکستان نے 15ویں ترمیم کو واپس لے لیا ہے۔ اس پالیسی کو لے کر مانا جارہا ہے کہ پاکستان نے ایک بار پھر پی او کے کے لوگوں کو ٹھگا ہے۔

      ایشین لائٹ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق مقننہ نے اس بل کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے پی او کے کے عبوری آئین میں 15ویں آئینی ترمیمی بل کی منظوری کے حوالے سے بڑی امیدیں تھیں۔ بل میں بلدیاتی اداروں کے لیے الگ الیکشن کمیشن کا قیام بھی شامل تھا جسے حکومت نے 13 اگست 2022 کو اس وقت کی اپوزیشن پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حمایت سے پیش کیا تھا۔ اب وہی سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہیں۔ 15ویں ترمیم پی او کے کی آئینی حیثیت کا تعین کرنے کی 24ویں کوشش تھی۔ پی او کے اسمبلی اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں لے پائی۔

      حکومت پاکستان کے منصوبے پر شدید اعتراض
      یہ ترمیم بلدیاتی انتخابات کے عمل سے متعلق ہے۔ جبکہ پی او کے علاقے کے لوگوں میں اسلام آباد کو لے کر زبردست عدم اطمینان ہے۔ اس کے علاوہ اس بات پر بھی ہنگامہ ہوا ہے کہ اسلام آباد پی او کے کے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیتا اور نہ ہی ان کے لیے بڑے فیصلے لینے سے پہلے ان سے مشورہ کرتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      Pakistan: پاکستانی گلوکار پر آفت بن کر برسی بارش، فیملی کے ساتھ سڑک پر سونے کو مجبور

      یہ بھی پڑھیں:
      کیا عمران خان ہو جائیں گے گرفتار؟ جانیں پاکستان میں کیوں برے پھنسے PTI لیڈر

      بل کی منظوری کے بعد پی او کے کے تمام دس اضلاع میں زبردست احتجاجی مظاہرے اور جلسے ہوئے۔ مظاہرین نے پاکستان کی حکومت کی جانب سے خطے کی آئینی حیثیت کو درست کرنے کے لیے 15ویں ترمیم لانے کے منصوبے پر شدید اعتراض کیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: