پاکستانی سماجی کارکن نے امریکہ سے مانگی پناہ ، پاک فوج کررہی ہے خواتین کا استحصال

گزشتہ ماہ اسلام آباد کے افسران سے بچ کر امریکہ پہنچی پاکستانی حقوق انسانی کی کارکن گلالئی اسماعیل نے امریکہ سے سیاسی پناہ مانگی ہے ۔ پاکستانی کارکن نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج خواتین کا استحصال کررہی ہے ۔

Sep 20, 2019 08:19 PM IST | Updated on: Sep 20, 2019 08:19 PM IST
پاکستانی سماجی کارکن نے امریکہ سے مانگی پناہ ، پاک فوج کررہی ہے خواتین کا استحصال

پاکستانی سماجی کارکن نے امریکہ سے مانگی پناہ ، پاک فوج کررہی ہے خواتین کا استحصال

پاکستان کا دوہرا رویہ ہمیشہ سامنے آتا رہا ہے ۔ اب اس واقعہ نے پاکستان میں خواتین پر ہورے ظلم  و ستم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ایک اور ثبوت پیش کیا ہے ۔ گزشتہ ماہ اسلام آباد کے افسران سے بچ کر امریکہ پہنچی پاکستانی حقوق انسانی کی کارکن گلالئی اسماعیل نے امریکہ سے سیاسی پناہ مانگی ہے ۔ پاکستانی کارکن نے کہا ہے کہ پاکستانی فوج خواتین کا استحصال کررہی ہے ۔

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گلالئی اسماعیل کسی طرح سے پاکستانی افسران سے بچ کر امریکہ پہنچی ہیں ۔ یہاں پہنچ کر انہوں نے پاکستانی فوج کے ذریعہ خواتین پر کئے جارہے مظالم کو اجاگر کیا ہے ۔ گلالئی اسماعیل نے جب پاکستان میں خواتین اور بچوں پر ہورہے مظالم کو اجاگر کرنے کی کوشش کی تو حکومت نے ان پر زبردستی ملک سے غداری کا الزام عائد کردیا۔

Loading...

رپورٹ کے مطابق 33 سالہ گلالئی اسماعیل اب اپنی بہن کے ساتھ بروکلن میں رہ رہی ہیں ۔ اسماعیل نے امریکی حکومت سے پناہ کا مطالبہ کیا ہے ۔ گلالئی اسماعیل نے کہا کہ وہ پاکستان سے بھاگنے کی کہانی تفصیل سے نہیں بتا سکتیں ، کیونکہ ایسا کرنے سے کئی لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ مجھ پر لگائے گئے سبھی الزامات غلط ہیں ۔ میں نے پاکستانی فوج کے ذریعہ خواتین پر کئے جارہے مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی ہے ، اس لئے وہاں کی حکومت نے مجھے پھنسایا ہے ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق گلالئی اسماعیل نے جب جنسی استحصال کے معاملات کو اٹھانے کی کوشش کی تو فوج نے خود کو بچانے کیلئے ان کے خلاف غداری کا الزام عائد کردیا ۔ گلالئی اسماعیل کے حق میں خواتین کارکنان نے وزیر اعظم عمران خان کو بھی خط لکھا اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی ۔ کچھ انسانی حقوق کارکنان کا بھی ماننا ہے کہ ان پر عائد کئے گئے الزامات بے بنیاد ہیں ۔

Loading...