ہوم » نیوز » عالمی منظر

پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ- پاکستان - ہندوستان کے مسئلہ کشمیر حل کرنے سے پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا

پاکستانی وزیر اعظم عمران خاں نے کہا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کر لیں تو پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا، ایک جانب ہندوستان کی بڑی منڈی ہوگی، دوسری جانب چین اور ایک جانب پاکستان ہوگا، لیکن بدقسمتی سے تنازعات کی وجہ سے صلاحتیوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jul 17, 2021 12:01 AM IST
  • Share this:
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ- پاکستان - ہندوستان کے مسئلہ کشمیر حل کرنے سے پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا
پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کا دعویٰ- پاکستان - ہندوستان کے مسئلہ کشمیر حل کرنے سے پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا





تاشقند: پاکستانی وزیر اعظم عمران خاں نے کہا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان مسئلہ کشمیر کو حل کر لیں تو پورا خطہ تبدیل ہوجائے گا، ایک جانب ہندوستان کی بڑی منڈی ہوگی، دوسری جانب چین اور ایک جانب پاکستان ہوگا لیکن بدقسمتی سے تنازعات کی وجہ سے صلاحتیوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکا۔ یہ بات انہوں نے ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیاکانفرنس میں کہی۔

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں وزیر اعظم عمران خان، ازبک صدر شوکت، افغان صدر اشرف غنی سمیت خطے کے ممالک کے اہم عہدیداران اور بین الاقوامی اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔
کانفرنس میں تقریر کا آغاز کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حل طلب تنازعات کی وجہ سے خطہ ٹکڑوں میں تقسیم رہا ہے اور دہائیوں تک متحد نہ ہوسکا۔ پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ روابط کے اس منصوبے میں دوسرا سب سے بڑا چیلنج پاکستان اور ہندوستان کے درمیان علاقائی غیر حل شدہ تنازعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان قدرتی زمینی پُل ہے اور یہاں امن کا قیام خطے کے درمیان روابط کو خواب سے حقیقت میں بدلنے کے لئے انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں استحکام ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے کیونکہ یہ براہ راست ہمیں متاثر کرتی ہے، پاکستان امن و تصفیے کے لئے تعمیر نو اور معاشی ترقی سمیت تمام منصوبوں کی حمایت کرتا رہے گا۔


عمران خان نے کہا- افغانستان کی صورتحال کے لئے پاکستان کو ذمہ دارٹھہرانا غلط


وہیں دوسری جانب  افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے کے افغان صدر اشرف غنی کے بیان پر شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایسا کہنا بہت غلط بات ہے۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کا کردار منفی رہا ہے اوران کے اس بیان پر عمران خان نے جمعہ کے روز رد عمل کا اظہار کیا۔


عمران خان نے یہ بات ازبکستان کے اپنے دو روزہ دورے میں "وسطی اور جنوبی ایشیاء کے علاقائی رابطے: چیلنج اور مواقع" کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر کہی جہاں پر مسٹر اشرف غنی نے افغان امن میں خلل ڈالنے کے لئے پاکستان کی سخت نکتہ چینی کی تھی اور اس کے کردار کو منفی قرار دیا تھا۔ عمران خان نے کہا کہ "صدر اشرف غنی صاحب! میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال سے جس ملک پر سب سے زیادہ اثر پڑے گا وہ پاکستان ہے۔ افغانستان میں تشدد کی وجہ سے پچھلے 15 سالوں میں پاکستان میں 70 ہزار لوگ مرچکے ہیں۔






Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 16, 2021 11:59 PM IST