உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کے اندر پہنچی پاکستانی فوج؟ طالبان کے ساتھ گھومتے ہوئے ویڈیو ہو رہا ہے وائرل

    Pakistan Troops in Afghan Soil: گزشتہ 14 جولائی کو طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے اہم ’اسپن بولڈک کراسنگ‘ پر قبضہ کرلیا ہے۔

    Pakistan Troops in Afghan Soil: گزشتہ 14 جولائی کو طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے اہم ’اسپن بولڈک کراسنگ‘ پر قبضہ کرلیا ہے۔

    • Share this:

      نئی دہلی: افغانستان میں طالبان کے مبینہ جنگجووں کو پاکستان سے مل رہی مدد کی خبروں کے درمیان ایک ویڈیو سامنے آیا ہے، جس میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستانی فوج کے جوان طالبان کے کنٹرول والے افغان علاقے میں دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس ویڈیو کو افغانستان کی ایک میڈیا ایجنسی آر ٹی اے ورلڈ نے ٹوئٹر پر جاری کیا ہے۔


      ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں پاکستانی فوجیوں کی آمدورفت۔ سوشل میڈیا پر شیئر کئے گئے ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج نے افغان صوبوں اسپن بولڈک میں ’نظر سیکورٹی پوسٹ‘ سے ڈورنڈو ریکھا کو افغان سرزمین پر قدم رکھا‘۔


      گزشتہ 14 جولائی کو طالبان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے افغانستان کے اہم ’اسپن بولڈک کراسنگ‘ پر قبضہ کرلیا ہے۔ قندھار کا ’اسپن بولڈک‘ پاکستان کے چمن شہر سے متصل افغان سرحد کا ایک اہم سیاسی پوائنٹ ہے، جس کے ذریعہ دونوں ممالک کے درمیان بڑی سطح پر تجارت ہوتی ہے۔





      طالبان کے مبینہ جنگجووں نے حال کے ہفتوں میں درجنوں اضلاع پر قبضہ کرلیا ہے اور اب مانا جا رہا ہے کہ 11 ستمبر کو افغانستان سے امریکی اور مغربی افواج کی مکمل واپسی سے پہلے ملک کے قریب ایک تہائی حصے پر ان کا کنٹرول ہے۔


      یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے نائب صدر امراللہ صالح نے گزشتہ 15 جولائی کو الزام لگایا تھا کہ پاکستانی فضائیہ چمن اور اسپن بولڈک کے سرحدی علاقوں میں طالبان کی مدد کر رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان نے اس سے ہمیشہ ہی انکار کیا ہے۔


      اس سے پہلے ازبکستان کی راجدھانی تاشقند میں گزشتہ 16 جولائی کو ایک سمیلن میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستانی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد افغانستان میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔ اشرف غنی نے کہا تھا کہ گزشتہ ماہ پاکستان سے 10 ہزار سے زیادہ جہادی سرحد پار کرکے ان کے ملک میں داخل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغان اہلکاروں سے جھڑپ کے دوران زخمی ہوئے طالبان دہشت گردوں کا پاکستان کے اسپتالوں میں علاج ہوتا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: