உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان: عدالت نے توہین رسالت کے لئے لڑکی کو سنائی سزائے موت، دوست نے لگائے تھے گمبھیر الزام

    ۔علامتی تصویر۔

    ۔علامتی تصویر۔

    اس میسیج کے لئے فاروق نے انیکا سے معافی معانگنے اور غلطی قبول کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن ایسا کرنے سے انیکا نے منع کردیا تھا۔ نتیجتاً، فاروق نے اُس کے خلاف فیڈرل جانچ ایجنسی کی سائبر کرائم برانچ میں شکایت درج کرائی، جس نے شروعاتی جانچ کے بعد معاملہ درج کیا اور اسے پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کرلیا۔

    • Share this:
      اسلام آباد:پاکستان کی ایک عدالت (Pakistani Court) نے بدھ کو ایک خاتون کو ’توہین رسالت کا پیغام‘ (Blasphemous Messages) بھیجنے کے لئے موت کی سزا سنائی ہے۔ انیکا عتیق نامی لڑکی کو راولپنڈی (Rawalpindi) کی ایک عدالت نے فاروق حسنات کی شکایت پر قصوروار ٹھہرایا تھا، جنہوں نے 2020 میں اُس کے خلاف کیس درج کیا تھا۔ لڑکی پر پیغمبر ﷺ کی توہین کرنے، اسلام کی توہین کرنے اور سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ معاملے میں بتایا گیاہے کہ انیکا اور فاروق دوست تھے، لیکن دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے اور غصے میں انیکا نے اُسے توہین رسالت کا میسیج بھیج دیا تھا۔

      اس میسیج کے لئے فاروق نے انیکا سے معافی معانگنے اور غلطی قبول کرنے کے لئے کہا تھا، لیکن ایسا کرنے سے انیکا نے منع کردیا تھا۔ نتیجتاً، فاروق نے اُس کے خلاف فیڈرل جانچ ایجنسی کی سائبر کرائم برانچ میں شکایت درج کرائی، جس نے شروعاتی جانچ کے بعد معاملہ درج کیا اور اسے پوچھ تاچھ کے لئے گرفتار کرلیا۔

      پاکستان کے توہین رسالت قانون کو سابق فوجی تاناشاہ ضیا الحق نے 1980 کی دہائی میں بنایا تھا۔ ان قوانین کے تحت کسی کو بھی پھانسی نہیں دی گئی ہے، لیکن توہین رسالت کے شک میں کئی لوگ مارے گئے ہیں۔ پچھلے سال، سیالکوٹ شہر میں ایک کارخانے میں منیجر کے طو رپر کام کرنے والے ایک سری لنکائی شہری کو توہین رسالت کے الزام میں بھیڑ نے پیٹ پیٹ کر مارڈالا تھا۔

      توہین رسالت: احمد طبقے کے تین ارکان کو نہیں ملی ضمانت
      ابھی حال ہی میں پاکستان کی ایک عدالت نے اقلیتی احمدی طبقے کے اُن تین افراد کو ضمانت دینے سے انکار کردیا تھا، جنہیں واٹس ایپ پر مبینہ توہین آمیز مواد شیئر کرنے کو لے کر توہین رسالت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر کی سائبرکرائم برانچ نے محمود اقبال ہاشمی، سراج احمد اور ظہیر احمدکو حال ہی میں لاہور سے گرفتار کیا تھا۔ اُن پر پاکستان پینل کوڈ (PPC) اور الیکٹرانک جرائم قانون (پیکا) کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: