உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کی حقوق انسانی کی معروف کارکن اسما جہانگیرانتقال کرگئیں

    اسما جہانگیر: فوٹو وکی پیڈیا۔

    اسما جہانگیر: فوٹو وکی پیڈیا۔

    معروف وکیل اور حقوق انسانی کی کارکن اسماجہانگیرآج حرکت قلب بندہوجانے سے انتقال کرگئیں ۔ محترمہ جہانگیر 66سال کی تھیں ۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      لاہور: معروف وکیل اور حقوق انسانی کی کارکن اسماجہانگیرآج حرکت قلب بندہوجانے سے انتقال کرگئیں ۔ محترمہ جہانگیر 66سال کی تھیں ۔انھیں دل کا دورہ پڑنے کے بعد اسپتال میں داخل کرایاگیا ،جہاں ڈاکٹروں نے انھیں مردہ قرار دیدیا۔ان کے انتقال کی خبر آتے ہی سماجی کارکنوں، سیاسی شخصیات اور وکلا کی جانب سے تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی بڑی تعداد میں لوگ دکھ کا اظہار کر رہے ہیں۔
      پاکستان کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف سمیت دیگر جماعتوں کے قائدین کی جانب سے بھی عاصمہ جہانگیر کے انتقال ہر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا ہے۔
      محترمہ جہانگیر کی پیدائش جنوری 1952میں لاہور میں ہوئی تھی ۔انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی تھی ۔انھوں نے لاہور ہائی کورٹ اور پاکستان سپریم کورٹ میں وکالت کی ۔وہ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر بنی تھیں۔اقوام متحدہ کی طرف سے محترمہ جہانگیر ایران میں خصوصی نامہ نگار کے طورپر بھی کام کرچکی ہیں ۔
      محترمہ اسما جہانگیرنے پاکستان میں جمہوریت کی بقاکے لئے ہمیشہ اپنی آوازبلند کی ۔کئی بار حکومت مخالف موقف کی وجہ سے انھیں جیل جانا پڑاتھااور وہ نظربندبھی ہوئی تھیں ۔انھیں کئی اعزازات سے بھی نوازاگیا۔انھیں ہلال امتیاز ،ستارہ امتیاز سے نوازاگیا۔حقوق انسانی پر کام کرنے کی وجہ سے یونیسکو نے بھی انھیں اعزازسے نوازاتھا۔انھیں 2014میں فرانس کا اعلی شہری ایوارڈ بھی دیاگیاتھا۔
      First published: