உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان PTI لیڈر عطااللہ خان کا عجیب و غریب بیان، بولے عمران خان کو کچھ بھی ہوا تو خودکش حملہ کردوں گا

    Youtube Video

    عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی عطاء اللہ خان نے شہباز سرکار کو جان سے مارنے کی دھمکی دیدی ہے۔ عطاء اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو کچھ بھی ہوا تو وہ حکومت میں شامل وزراء اور ان کے بچوں کو فدائین حملے میں مار گرائیں گے۔

    • Share this:
      اسلام آباد۔: پاکستان میں نئی ​​حکومت کے قیام کے بعد سے سیاسی تعطل جاری ہے۔ ایک طرف جہاں شہباز شریف حکومت ملک سے غداری کے کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتار کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن اسمبلی عطاء اللہ خان نے شہباز سرکار کو جان سے مارنے کی دھمکی دیدی ہے۔ عطاء اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان کو کچھ بھی ہوا تو وہ حکومت میں شامل وزراء اور ان کے بچوں کو فدائین حملے میں مار گرائیں گے۔ عطاء اللہ نے اس بیان کی ویڈیو جاری کی ہے جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ بتادیں کہ عطا اللہ خان پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور 2018 سے رکن اسمبلی ہیں۔

      پاکستان پی ٹی آئی کے لیڈر ایڈوکیٹ عطا اللہ خان نے عمران خان کے حوالے سے عجیب و غریب بیان دے ڈالا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کے ایک بال کو بھی کچھ ہوا تو وہ خودکش حملہ کر دیں گے۔


      کراچی کے رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ Attaullah نے کہا کہ میرے قائد عمران خان کا ایک بال  کو بھی نقصان پہنچا ہے تو ملک چلانے والوں کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے۔ میں پہلا شخص ہوں گا جو وزراء اور ان کے بچوں پر خودکش حملہ کروں گا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اسلام آباد میں پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے۔ اس کے ساتھ لوگوں کے جمع ہونے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں:  Pakistan: شوہر کو رسی سے باندھا، پھر 5 لوگوں نے حاملہ خاتون کا کیا جنسی استحصال

      یہ اطلاع اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے دی۔ اسلام آباد پولیس نے اتوار کو ٹوئٹ کیا کہ پی ٹی آئی کے صدر عمران خان کی بانی گالہ آمد کے پیش نظر بنی گالہ کے چاروں جانب سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اب تک اسلام آباد پولیس کو عمران خان کی ٹیم سے واپسی کی کوئی مصدقہ خبر موصول نہیں ہوئی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: