உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حافظ سعید کے خلاف پاکستان میں کوئی معاملہ درج نہيں : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، عزت سے لیا نام

    حافظ سعید ۔ فائل فوٹو

    حافظ سعید ۔ فائل فوٹو

    پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہہ کر ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف کسی طرح کی کارروائی سے انکار کردیا ہے کہ پاکستان میں اس کے خلاف کوئی معاملہ درج نہيں ہے۔

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ کہہ کر ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ سعید کے خلاف کسی طرح کی کارروائی سے انکار کردیا ہے کہ پاکستان میں اس کے خلاف کوئی معاملہ درج نہيں ہے۔ خیال رہے کہ دہشت گرد وں کو پناہ دینے کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں تنقید کی جارہی ہے ، اس کے باوجود وہ دہشت گردی کے آقاوں کی حمایت کرنے سے گریز نہیں کررہا ہے۔
      پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک نیوز چینل جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں حافظ سعید کو نہ صرف بے قصور بتایا کہ بلکہ ان کا نام بھی کا فی عزت سے لیا ۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ "حافظ سعید صاحب کے خلاف پاکستان میں کوئی معاملہ درج نہیں ہے اور اس وجہ سے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی ہے"۔ عباسی نے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے کی بابت پوچھے گئے سوال پر کہاکہ "کارروائی تو اس شخص پر کی جا سکتی ہے جس کے خلاف کوئی مقدمہ درج ہو"۔
      پاکستانی وزیر اعظم نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے بیان پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں ہندوستان کے ساتھ جنگ کےخدشہ سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان ہمیشہ کہتا آیا ہے کہ ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں"۔
      مسٹر عباسی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گوادر بندرگاہ کو جو چین-پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پی ای سی) کا نقطہ آغاز ہے، تجارتی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جارہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ہندوستان کروڑوں ڈالر کے اس منصوبے کے خلاف پروپیگنڈہ کررہا ہے۔ افغانستان کے مسئلے پر ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے ، پاکستان اس میں صرف سہولتیں فراہم کرسکتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان از خود یہ کام کرے، باہر سے کوئی بھی اس کے مسائل حل کرنے کے لئے نہيں آئے گا۔
      نیوز ایجنسی یو این آئی کے ان پٹ کے ساتھ
      First published: