ہوم » نیوز » عالمی منظر

فلسطینی طالبہ کا کمال ، موسم گرما میں حج وعمرہ کی ادائیگی میں سخت دھوپ سے بچنے کیلئے اسمارٹ چھتری ایجاد کی

فلسطینی طالبہ اور سعودی طالب علم نے ایک ایسی اسمارٹ چھتری تیار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، جو شمسی توانائی سے چارج ہوگی اور وہ نہ صرف سایہ فراہم کرے گی ، بلکہ باقاعدہ ٹھنڈک اور رات کی تاریکی میں روشنی بھی پہنچائے گی۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Aug 16, 2016 02:18 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
فلسطینی طالبہ کا کمال ، موسم گرما میں حج وعمرہ کی ادائیگی میں سخت دھوپ سے بچنے کیلئے اسمارٹ چھتری ایجاد کی
فلسطینی طالبہ اور سعودی طالب علم نے ایک ایسی اسمارٹ چھتری تیار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، جو شمسی توانائی سے چارج ہوگی اور وہ نہ صرف سایہ فراہم کرے گی ، بلکہ باقاعدہ ٹھنڈک اور رات کی تاریکی میں روشنی بھی پہنچائے گی۔

مکہ : ایک فلسطینی طالبہ نے سعودی عرب کے ایک نوجوان سائنسداں کے ساتھ مل کر ایک نئی ایجاد کی ہے ، جو ہرطرف موضوع بحث ہے ۔ دونوں نے ایک ایسی اسمارٹ چھتری ایجاد کی ہے ، جو موسم گرما کے دوران حج اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے حجاز مقدس آنے والے مسلمانوں کو سخت دھوپ سے نجات دے گی ۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ایک خبر کے مطابق ایک فلسطینی طالبہ اور سعودی طالب علم نے ایک ایسی اسمارٹ چھتری تیار کرنے کا کارنامہ انجام دیا ہے، جو شمسی توانائی سے چارج ہوگی اور وہ نہ صرف سایہ فراہم کرے گی ، بلکہ باقاعدہ ٹھنڈک اور رات کی تاریکی میں روشنی بھی پہنچائے گی۔ ساتھ ہی ساتھ حسب ضرورت وہ دیگر لوگوں سے رابطے کا کام بھی کرے گی۔

سعودی اور فلسطینی نوجوان ماہرین نے توقع ظاہر کی ہے کہ ان کی تیار کردہ اسمارٹ چھتری نہ صرف حجاج ومتعمرین کو حج وعمرہ کے شعائر کی ادائیگی کے دوران ٹھنڈک مہیا کرے گی ، بلکہ دنیا بھر میں ان کی اس کاوش کو بڑے پیمانے پر پسند بھی کیا جائے گا۔

فلسطینی دو شیزہ منال دندیس اور سعودی شہری کامل بدوی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اسمارٹ چھتری کا تصور حجاج کرام کو گرمی میں ٹھنڈک کی سہولت کی فراہمی کے نظریے سے کیا۔ بدوی کا کہنا ہے کہ وہ بچپن سے ہی سوچتے آ رہے تھے کہ انہیں حجاج کرام کو سخت گرمی سے بچانے کے لیے کوئی ایسی منفرد چیز ایجاد کرنی چاہیے۔ آخر کار انہوں نے ایک ایسی چھتری کی تیاری پر غور و خوض کرنا شروع کیا ، جو خود کار طریقے سے شمسی تونائی سے طاقت حاصل کرنے کے بعد اوڑھنے والے کو سایہ ہی نہیں ، بلکہ ٹھنڈک بھی مہیا کرے۔ آخر کار منال دنیس کی معاونت سے انہوں نے من چاہی اسمارٹ چھتری تیار کرلی ہے۔

بدوی کا کہنا ہے کہ عموما لوگ یوروپی ملکوں، گرم خطوں اور حج کے مواقع پر گرمی سے بچنے کے لیے چھتری کا سہارا لیتے ہیں ، مگر روایتی چھتریاں سایہ تو فراہم کرتی ہیں ، مگر وہ گرمی کی شدت کم کرنے اور ٹھنڈک کا احساس پیدا کرنے میں زیادہ کارگر نہیں ہوتیں۔ انہوں نے کہا کہ اگلے کم سے کم بارہ سال تک حج گرم ترین مہینوں میں آئے گا، اس لیے ان کی تیار کردہ اسمارٹ چھتری حجاج کرام کے لیے غیرمعمولی طور پر مفید ہو سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں بدوی کا کہنا تھا کہ وہ چھتری کے اندر چھوٹا پنکھا نصب کریں گے ، جوجی پی ایس سسٹم کے ذریعے شمسی توانائی سے چارج ہونے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ٹھنڈک بھی فراہم کرے گا۔

اس چھتری کی ایک اضافی خوبی یہ بھی ہو گی کہ اگر پورا ایک خاندان حج پر آیا ہے ، تو وہ چھتری کے ذریعے ایک دوسرے کے مقام کی نشاندہی بھی کر سکے گا۔ پنکھے کے ساتھ ساتھ اس میں ایک چھوٹی لائیٹ بھی لگائی جائے گی ، جو رات کی تاریکی میں بارش سے بچانے میں مدد کے ساتھ ساتھ روشنی بھی مہیا کرے گا۔
First published: Aug 16, 2016 02:16 PM IST