உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آئس لینڈ کے وزیراعظم نے پناما دستاویزات میں اپنا نام آنے پر دیا استعفی

    ریکیا وک (آئس لینڈ)۔ انتہائی خفیہ طریقے سے کام کرنے والی دنیا کی بڑی ’لافرم ‘ میں سے ایک پانامہ کی موساک فونسیکا کی مالی دستاویزات لیک ہونے کے بعد پہلے بڑے سیاسی واقعہ میں آئس لینڈ کے وزیر اعظم گَنلاگسن نے اس میں اپنا نام آنے پرا ستعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

    ریکیا وک (آئس لینڈ)۔ انتہائی خفیہ طریقے سے کام کرنے والی دنیا کی بڑی ’لافرم ‘ میں سے ایک پانامہ کی موساک فونسیکا کی مالی دستاویزات لیک ہونے کے بعد پہلے بڑے سیاسی واقعہ میں آئس لینڈ کے وزیر اعظم گَنلاگسن نے اس میں اپنا نام آنے پرا ستعفیٰ پیش کر دیا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      ریکیا وک (آئس لینڈ)۔ انتہائی خفیہ طریقے سے کام کرنے والی دنیا کی بڑی ’لافرم ‘ میں سے ایک پانامہ کی موساک فونسیکا کی مالی دستاویزات لیک ہونے کے بعد پہلے بڑے سیاسی واقعہ میں آئس لینڈ کے وزیر اعظم گَنلاگسن نے اس میں اپنا نام آنے پرا ستعفیٰ پیش کر دیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے صدر سے پارلیمان کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ کل شام آئس لینڈ کے وزیراعظم زیگمنڈر ڈیو گَنلاگسن نے پاناما پیپرز میں نام آنے پر اپنے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ قبل ازیں انہوں نے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے لیے ملکی صدر سے ملاقات کی تھی۔


      صدر اولافر گریمسن نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم گنلاگسن نے ان سے ملاقات کر کے پارلمیان کو تحلیل کرنے کی درخواست کی ہے۔ ان کے بقول ملکی حزب اختلاف کی جانب سے شدید احتجاج اور پارلمیان میں تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے بعد وزیر اعظم نے یہ تجویز پیش کی ہے۔ تحریک عدم اعتماد پر اسی ہفتے کے دوران ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ صدر گریمسن نے مزید کہا کہ وہ تمام اہم جماعتوں سے ملاقات کرنے کے بعد ہی اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے۔


      پیر کے روز حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے ہزاروں کارکنوں نے ریکیاوک میں پارلیمنٹ کا گھیراؤ کر کے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔ مظاہرین کا موقف ہے کہ پانامہ پیپرز میں وزیراعظم کی اہلیہ کی کمپنی کا بھی ذکر ہے اور وزیراعظم اس بارے میں وضاحت پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس تناظر میں41 سالہ گنلاگسن کا کہنا تھا، ’’میں نے انڈیپینڈنس پارٹی کی قیادت کو بتا دیا ہے کہ اگر اس پارٹی کے منتخب نمائندے مشترکہ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں حکومت کی مدد نہیں کر سکتے تو میں پارلیمنٹ تحلیل کرتے ہوئے عام انتخابات کرانے کا اعلان کروں گا۔

      First published: