ہوم » نیوز » عالمی منظر

روسی طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کا عمل دخل خارج از اندیشہ نہیں: دمیتری پیسکوو

ماسکو ۔ صدر روس کے ترجمان دمیتری پیسکوو نے جہاں صحرائے سینا میں ایک روسی طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کے عمل دخل کو مسترد نہیں کیا ہے، وہیں روس کی فضائی کمپنی کوگالی ماویا نے الزام عائد کیا ہے کہ مسافر بردار طیارہ بیرونی عوامل کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Nov 02, 2015 08:00 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روسی طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کا عمل دخل خارج از اندیشہ نہیں: دمیتری پیسکوو
ماسکو ۔ صدر روس کے ترجمان دمیتری پیسکوو نے جہاں صحرائے سینا میں ایک روسی طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کے عمل دخل کو مسترد نہیں کیا ہے، وہیں روس کی فضائی کمپنی کوگالی ماویا نے الزام عائد کیا ہے کہ مسافر بردار طیارہ بیرونی عوامل کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا تھا۔

ماسکو ۔ صدر روس کے ترجمان دمیتری پیسکوو نے جہاں صحرائے سینا میں ایک روسی طیارے کی تباہی میں دہشت گردی کے عمل دخل کو مسترد نہیں کیا ہے، وہیں روس کی فضائی کمپنی کوگالی ماویا نے الزام عائد کیا ہے کہ مسافر بردار طیارہ بیرونی عوامل کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوا تھا۔ دمیتری پیسکوو نے بہر حال زور دے کر کہا کہ تفتیش مکمل ہونے تک حتمی اندازہ لگایا جانا قطعی غلط ہوگا۔


صدارتی ترجمان نے سرچ آپریشن میں روس اور مصر کے ماہرین کے تعاون کو انتہائی موثر قرار دیا اور کہا کہ مصر ہر قسم کا تعاون کر رہا ہے۔ پیسکوو نے وضاحت کی کہ بین الاقوامی قواعد کے مطابق طیارے کے حادثے کی تفتیش وہ ملک کرتا ہے جس کی سرزمین پر یہ حادثہ پیش آیا لیکن روسی ماہرین تفتیش میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں۔


مصر کے حکام نے طیارہ کو مار گرائے جانے کی تردید کی ہے۔ مصر کے وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ ماہرین کی رائےمیں 31 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرنے والے طیارہ پر حملہ کرکے اسے نہیں گرایا جاسکتا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ طیارہ آسمان میں ہی پھٹ گیا اور اس کے دو ٹکڑے ہوگئے تھے۔ اس دوران کئی بین الاقوامی ایئر لائنوں نے صحرائے سینا کی سیکورٹی میں سدھار نہ ہونے تک اس کے فضائی راستوں سے ہو کر گزرنے والے اپنے طیاروں کی پرواز کے راستوں کو تبدیل کر دیا ہے۔


واضح رہے کہ مصرکےشرم الشیخ سے روس کے شمال مغربی شہر سینٹ پیٹرزبرگ کی جانب پرواز کے دوران ائیربس طیارہ ہفتے کے روز جزیرہ نما سینا میں گر گیا۔ اندازوں کے مطابق طیارہ پرواز کے دوران ہی پھٹ گیا تھا۔ اس حادثے میں دو سو سترہ مسافر اور عملے کے سات اراکین ہلاک ہو گئے۔حادثہ کا شکار روسی طیارہ کے 144 مسافروں کی لاشیں روس بھیج دی گئی ہیں۔اس طیارے کی دُم کو 2001 میں بھی ااڑان بھرتے ہو ئے نقصان پہنچا تھا لیکن فضائی کمپنی کے ایک اور اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کی مناسب مرمت کر لی گئی تھی۔


فضائی کمپنی کے ڈپٹی ڈائریکٹر الیگزینڈر سمرنوف نے کہا ہے کہ فضا میں جہاز کے پھٹ جانے کی واحد قابلِ فہم وجہ کسی بیرونی چیز سے ٹکراؤ ہو سکتا ہے۔کمپنی کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ بیرونی وجوہات کی بنا پر ہوا۔شہری ہوا بازی کے ماہرین کی طرف سے طیارے کے ’بلیک باکس‘ سے تفصیلات حاصل کر کے ابھی حادثے کی تحقیقات ہونا باقی ہیں۔


دریں اثناء، روسی ایئر لائن 'کو گليمابيا ائیر لائنز' کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل الیگزینڈر سمرنووف نے ماسکو میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ روسی مسافر بردار طیارہ کسی تکنیکی خرابی یا انسانی چوک کی وجہ سے گر کر تباہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہ کہ "تکنیکی طورپر طیارے کی حالت ٹھیک تھی اور ہم کسی تکنیکی خرابی یا عملے کے ارکان کی طرف سے ہونے والی کسی طرح کی لغزش سے انکار کرتے ہیں"۔


قابل ذکر ہے کہ مصر کے جزیرہ نما سینا میں ہفتہ کے روز روس کا ایک اسپیشل چارٹرڈ طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے اس پر سوار تمام 224 مسافرین اور عملہ کے ارکان کی موت ہوگئی تھی۔ یہ طیارہ ایئر بس اے- 321 مصر کے بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع شرم الشیخ کے ہوائي اڈے سے روس کے سینٹ پیٹسبرگ کے لئے پرواز پر تھا، لیکن پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد وہ وادی سیناء میں مشرق حصہ کے پہاڑی علاقے میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ اس حادثے میں مرنے والے 144 مسافروں کی لاشیں روس بھیج دی گئي ہیں۔ بدقسمت طیارے میں سوار مسافروں میں زیادہ تر روس کے تھے۔ بچاؤ اور راحت رسانی آپریشن میں مصروف ٹیم کو اب تک 163 لاشیں مل چکی ہیں۔

First published: Nov 02, 2015 08:00 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading