உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر ہنگامہ، پاکستان میں جلد ہونے والا ہے تختہ پلٹ!

    آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر ہنگامہ، پاکستان میں جلد ہونے والا ہے تختہ پلٹ!

    آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر ہنگامہ، پاکستان میں جلد ہونے والا ہے تختہ پلٹ!

    اب پاکستانی میڈیا کے حلقوں اور سیاست کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی ملک میں ’مارشل لا‘ لگ سکتا ہے۔ حکومت کو ہٹاکر آرمی ٹیک اوور کرسکتی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے ترک تاریخ میں چھپے ہوئے ہیں۔ آئیے تفصیل سے جانتے ہیں۔

    • Share this:
      اسلام آباد: ان دنوں پاکستان (Pakistan) میں آئی ایس آئی چیف (ISI Chief) کی تقرری پر ہنگامہ مچ گیا ہے۔ اس کے دو اہم کردار وزیر اعظم عمران خان (Pakistan Prime Minister Imran Khan) اور کبھی ان کے خاص رہے آرمی چیف جنرل قمر باجوا (General Qamar Javed Bajwa) اب آمنے سامنے آچکے ہیں۔ قمر باجوا کی مہر لگنے کے 11 دن بعد بھی عمران خان نے نئے آئی ایس آئی چیف ندیم انجم کو ان کی تقرری کو ہری جھنڈی نہیں دی ہے۔ اس سے آرمی چیف باجوا، عمران خان کو آنکھیں دکھا رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عمران خان نے ہی جنرل قمر باجوا کا سروس ایکسٹینشن کیا تھا۔ اب پاکستانی میڈیا کے حلقوں اور سیاست کو سمجھنے والے کہہ رہے ہیں کہ جلد ہی ملک میں ’مارشل لا‘ لگ سکتا ہے۔ حکومت کو ہٹاکر آرمی ٹیک اوور کر سکتی ہے۔ اس کے پیچھے ان کے ترک تاریخ میں چھپے ہوئے ہیں۔

      22 سال پہلے 12 اکتوبر 1999 کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ پلٹ کرکے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت بھی دونوں کے درمیان آئی ایس آئی کے سربراہ کی تقرری کو لے کر اختلافات شروع ہوگئے ہیں۔ تختہ پلٹ کے دوران وزیر اعظم نواز شریف اور آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ضیا الدین بٹ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ پاکستان میں پہلا موقع تھا جب کسی آئی ایس آئی چیف کو بھی گرفتار کیا گیا۔

      آئی ایس آئی چیف اور نواز شریف میں خون کا رشتہ: پاک آرمی

      بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستانی فوج میں اس وقت مذاق اڑایا جاتا تھا کہ نواز شرف کا جنرل ضیا الدین بٹ سے خون کا رشتہ ہے۔ اس لئے انہوں نے بھروسے مند آئی ایس آئی عہدے پر انہیں بٹھایا۔ وہیں پرویز مشرف اپنے خاص لیفٹینںٹ جنرل عزیز خان کو خفیہ ایجنسی کا سربراہ بنانا چاہتے تھے، لیکن نواز شریف کے یکطرفہ فیصلے پر مشرف خون کا گھونٹ پی کر رہ گئے اور انہیں سبق سکھانے کے لئے پلان بنانے لگے۔ تقریباً ایک سال بعد انہوں نے اپنا بدلہ لے بھی لیا۔

      بٹ پر بھروسہ نہیں کرتے تھے پرویز مشرف

      پرویز مشرف نے اپنی کتاب ’ان دی لائف آف فائر‘ میں آئی ایس آئی چیف جنرل ضیا الدین پر بھروسہ نہیں کرتے تھے۔ پہلے دن سے انہوں نے آئی ایس آئی سے اہم فائلیں اور اسکیمیں واپس لے لی تھیں۔ کشمیر اور افغانستان سے جڑی ذمہ داری اس وقت کے چیف آف جنرل اسٹاف، لیفٹیننٹ جنرل عزیز کو سونپ دی تھیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: