உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آج ہوگا وزیراعظم کا خطاب،مودی اور پوتن کی ملاقات پر نگاہیں، جن پنگ سے بات چیت پر اندیشہ برقرار

    وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ (فائل فوٹو)

    وزیراعظم نریندر مودی اور روسی صدر ولادیمیر پوتن۔ (فائل فوٹو)

    SCO Summit: چین نے جس طرح میٹنگ سے عین قبل مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے اپنی فوج کا انخلاء شروع کیا ہے، اس سے مودی-جن پنگ ملاقات کے امکان کو تقویت ملی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Jammu
    • Share this:
      SCO Summit:وزیراعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے چوٹی کانفرنس سے آج خطاب کریں گے۔ ساتھ ہی ایس سی او کے چوٹی کانفرنس سے الگ روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات پر سب کی نگاہیں ہیں۔ یوکرین روس جنگ کے درمیان یہ دونوں قائدین کے درمیان پہلی ملاقات ہے۔ اس درمیان چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات پر ابھی اندیشہ برقرار ہے۔ ہندوستان اور چین بھی اس پر خاموشی بنائے رکھی ہے۔

      دو روزہ میٹنگ میں پی ایم مودی کے خطاب کے موقع پر، جمعرات کو، خارجہ سکریٹری ونے موہن کواترا نے کہا کہ وزیر اعظم سمرقند میں ازبکستان کے صدر اور دیگر سربراہان حکومت کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ جن پنگ کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ کواترا نے کہا کہ توقع ہے کہ ملاقات میں متعلقہ امور، تجارت اور علاقائی تعاون پر نتیجہ خیز بات چیت ہوگی۔ اجلاس میں ترقیاتی امور پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور تجارتی اور اقتصادی امور، دہشت گردی سمیت مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

      مودی کا ایران کے صدر ابراہیم رئیسی، اُزبک صدر شوکت مرزیویو سے ملنا طئے ہے۔ مودی تاجکستان، قزاقستان، اُزبکستان، کرغزستان کے سربراہان کے ساتھ بھی دوطرفہ بات چیت کریں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      تائیوان پرحملہ سےروکنےکیلئےامریکہ کی پیش قدمی، چین پرامریکہ لگاسکتاہےاقتصادی پابندیاں؟

      یہ بھی پڑھیں:
      آرمینیا-آذربائیجان کے درمیان تصادم پر ہندوستان نے کیا اپنے موقف کا اظہار، کہا یہ بڑی بات!

      فوجی واپسی سے مودی-شی ملاقات کے آثار بڑھے
      چین نے جس طرح میٹنگ سے عین قبل مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے اپنی فوج کا انخلاء شروع کیا ہے، اس سے مودی-جن پنگ ملاقات کے امکان کو تقویت ملی ہے۔ 2017 میں بھی، چین نے اس کی میزبانی میں ہونے والے جی 20 اجلاس سے قبل ڈوکلام تنازعہ کو حل کیا تھا۔ اس کے بعد پی ایم مودی، جو اس میٹنگ میں شرکت کے لیے وہاں گئے، نے صدر جن پنگ سے ملاقات کی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: