ہوم » نیوز » عالمی منظر

سنگا پور میں وزیر اعظم مودی کا طلبا سے خطاب، ’’2001 سے اب تک 15 منٹ بھی چھٹی نہیں لی‘‘۔

تین ملکوں کی پانچ روزہ دورہ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی فی الحال سنگا پور میں ہیں۔ جمعہ کو وزیراعظم نانیانگ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طلبا سے روبرو ہوئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق کئی باتیں شیئر کیں۔

  • Share this:
سنگا پور میں وزیر اعظم مودی کا طلبا سے خطاب، ’’2001 سے اب تک 15 منٹ بھی چھٹی نہیں لی‘‘۔
وزیراعظم نریندر مودی: فائل فوٹو

تین ملکوں کی پانچ روزہ دورہ کے دوران وزیراعظم نریندر مودی فی الحال سنگا پور میں ہیں۔ جمعہ کو وزیراعظم نانیانگ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے طلبا سے روبرو ہوئے۔ اس دوران انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق کئی باتیں بتائیں۔


وزیراعظم مودی نے یونیورسٹی کے طلبا سے کہا کہ سنگا پور میں میں نے دنیا کی بدلتی ہوئی جھلک دیکھی ہے، صرف انوویشن نہیں کررہےہیں، بلکہ آپ ایک نئی دنیا کی تعمیر کررہے ہیں۔ مودی نے طلبا کو یہ بھی بتایا کہ کیسے وہ ملک کی ترقی کے لئے مسلسل کام کررہے ہیں۔ انہوں نے سال 2001 سے اب تک 15 دن دن کی چھٹی بھی نہیں لی۔ واضح رہے کہ وزیراعظم مودی نے سنگا پور سے پہلے انڈونیشا اور ملیشیا کا دورہ کیا تھا۔


نریندر مودی نے بتایا کہ جب میں دنیا کو دیکھتا ہوں، کبھی میرے ملک کی فوج کے جوان کو اتنی مشکل حالات میں، کبھی پانی میں، کبھی برف کے درمیان اور کبھی ریگستان میں گھنٹوں تک ملک کی خدمت کے لئے کھڑے دیکھتا ہوں۔


کسی مزدور کو اپنے بچون کی زندگی سنوارنے کے لئے اپنی زندگی گھسیٹتے ہوئے دیکھتا ہوں۔ کبھی کسی ماں کو گھنٹوں تک مزدوری کرتے دیکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے کہ جب یہ لوگ اتنا کرتے ہیں تو مجھے چین سے سونے کا حق نہیں ہے۔ یہ عام آدمی میرے لئے نصیحت ہیں، اس لئے میں بغیر رکھے اور تھکے کام کرتا ہوں۔ میں 2001 سے لائم لائٹ میں آیا ہوں، لیکن 2001 سے آج تک میں نے 15 منٹ تک کی بھی چھٹی نہیں لی ہے، میں اپنے جسم کو فٹ رکھتا ہوں۔

 

وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح کے چیلنج ہیں، اگر ہم حساب لگائیں گے تو مواقع ہمارے پاس زیادہ ہیں۔ کم سے کم جدوجہد والا یہ میدان ہے، ہم ثقافتی طور پر ہزاروں سال سے قریب رہے ہیں، اس رشتے کو مزید بڑھانا ہے۔

امریکن یونیورسٹی کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ وہاں کی یونیورسٹیز نے 2000 سال کی اقتصادی ترقی کے سفر پر ایک ریسرچ کیا ہے، اس میں ایک فائنڈنگ ہے، جس میں گزشتہ 2000 سال میں تقریباً 1600 سال دنیا کی جی ڈی پی میں 50 فیصد حصہ داری چین اور ہندوستان کی تھی۔ صرف 300 سال ہی مغرب کے ملکوں کا اثر بڑھا۔ 1600 سال میں ہمارے درمیان کوئی جدوجہد نہیں تھا۔

مودی نے کہا کہ ایشیا کے روشن مستقبل  کے سامنے چیلنج ہے۔ 21 ویں صدی ایشیا کی صدی ہے۔ سب سے بڑا سوال ہے کہ ہم ایشیا کے لوگ اسے محسوس کرتے ہیں یا نہیں؟ 21 ویں صدی کو ایشا کی صدی بناکر رہنا ہے، یہ ہمارے لئے ایک چیلنج ہے۔ یہ اپنے آپ میں یقین کرنا اور یہ جاننا ضروری ہے کہ اب ہماری باری ہے، ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھانا ہوگا اور اس کی قیادت کرنی ہوگی۔

 
First published: Jun 01, 2018 09:56 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading