ہوم » نیوز » عالمی منظر

بعض ممالک دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں: مودی

انطالیہ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ممالک ایسے بھی ہیں جو اب بھی اپنی پالیسیوں کی آڑ میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں

  • UNI
  • Last Updated: Nov 16, 2015 08:03 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بعض ممالک دہشت گردی کو پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں: مودی
انطالیہ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ممالک ایسے بھی ہیں جو اب بھی اپنی پالیسیوں کی آڑ میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں

انطالیہ۔  وزیر اعظم نریندر مودی نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد قائم کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ممالک ایسے بھی ہیں جو اب بھی اپنی پالیسیوں کی آڑ میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتے ہیں۔ مسٹر مودی نے جی -20 سربراہ کانفرنس کے دوران کہا کہ بغیر کسی سیاسی غور وخوض کے پوری دنیا کو دہشت گردی کی مخالفت میں ایک ساتھ آواز اٹھانی چاہئے اور اس کے خلاف مل کر کارروائی کرنی چاہئے۔


انہوں نے کہاکہ "نہ تو دہشت گرد تنظیموں کے درمیان کسی طرح کا فرق کیا جانا چاہئے اور نہ ممالک کے درمیان۔ ہمیں دہشت گردوں کی مدد کرنے اور ان کی پرورش کرنے والوں کو الگ تھلگ کر کے ان ممالک کا ساتھ دینا چاہئے جو انسانیت کے ہمارے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں"۔ مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ دہشت گردی اب بھی اپنی پرانی شکل میں موجود ہے اور بعض ملک اب بھی اپنی پالیسیوں کی آڑ میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ "ہمارے پاس مجموعی طورپر دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے عالمی سطح پر فی الحال کوئی مضبوط منصوبہ نہیں ہے، اس لئے اس کے خلاف کسی طرح کی کارروائی سے قبل کافی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے"۔


وزیر اعظم نے دہشت گردی کو مذہب کے ساتھ نہ جوڑنے اور نسل پرستی کے خلاف متحد ہوکر لڑنے کی اپیل کی۔ انہوں نے دہشت گردی کی بدلتی ہوئی شکلوں جیسے عالمی سطح پر دہشت گردوں کے تار ایک دوسرے سے جڑے ہونے، اندرون ملک پیدا ہونی والی دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیم میں لوگوں کو شامل کرنے کے لئے انٹرنیٹ کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں ان سے نمٹنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر انٹلیجنس اطلاعات کے تبادلے اور انسداد دہشت گردی کے لئے تعاون میں اضافہ ہونا چاہئے۔ اس ضمن میں دہشت گردوں کے بڑھتے قدم کو روکنے کے لئے بھی انہوں نے بہت سے اقدامات کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ "ہمیں مل کر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ دہشت گردوں تک کسی طرح کے ہتھیار نہ ہنچ سکیں، دہشت گردانہ سرگرمیوں کے انسداد کی کوششوں کے ساتھ ہی ان سرگرمیوں کے لئے مالی امداد مہیا کرانے والوں کو نیست و نابود کرنے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلایا جانا چاہئے"۔


مسٹر نریندر مودی نے کہا کہ "ہمیں اپنے سائبر اسپیس کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کوئي بھی دہشت گرد ہمارے سوشل میڈیا کا استعمال دہشت گرد انہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے نہ کر سکے۔ وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف سماجی مہم میں بالخصوص نوجوانوں کو دہشت گردی کی جال پھنسنے سے روکنے کے لئے ان میں مذہبی رہنماؤں اور دانشوروں کو شامل کرنے کی اپیل کی۔  عالمی سطح پر دہشت گردی سے لڑنے کی اپیل کرنے کے علاوہ مسٹر مودی نے مغربی ایشیا اور افریقہ میں وسیع پیمانے پر امن اور استحکام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔


مسٹر مودی نے کہاکہ "دنیا بھر میں چھ کروڑ لوگوں کو پناہ اور تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس وقت جاری پناہ گزینوں کے بحران کے معاملے پر بھی غور کرنا ضروری ہے"۔ انہوں نے کہا کہ مغربی ایشیائی ممالک میں یہ انسانی بحران عالمی توجہ مرکز بنا ہوا ہے۔ جس کے اثرات دیگر ممالک میں بھی پڑرہے ہیں ۔مسٹر مودی نے ان تمام ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پناہ گزینوں کے لئے اپنی سرحدوں اور پناہ گاہوں کو کھولا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے انسانی چیلنجوں میں شمار ہونے والے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کومضبوط کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

First published: Nov 16, 2015 08:03 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading