உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی آج یو این ایس سی میٹنگ کی کریں گے صدارت، سمندری تحفظ پر ہوگا تبادلہ خیال

    UNSC Debate: 75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔

    UNSC Debate: 75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔

    UNSC Debate: 75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی آج اقوام متحدہ سلامتی کونسل  (UNSC) کی میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ اس دوران وہ یو این ایس سی کے سمندری تحفظ پر ایک کھلی بحث میں حصہ لیں گے۔ تبادلہ خیال کا موضوع ہے ’سمندری تحفظ کا فروغ: بین الاقوامی تعاون کی ضرورت‘۔ وزیر اعظم دفتر (پی ایم او) کے مطابق، اس میٹنگ میں یو این ایس سی کے رکن ممالک کے قومی صدور اور حکومت کے سربراہان اور اقوام متحدہ کا نظام اور اہم علاقائی تنظیمیں کے اعلیٰ سطحی ماہرین کے حصہ لینے کی امید ہے۔
      75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔ اس میٹنگ میں سمندری جرائم اور عدم تحفظ کا موثر طریقے سے مقابلہ کرنے اور سمندری علاقوں میں تال میل کو مضبوط کرنے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ سمندری سلامتی کا جامع نظریہ، جائز سمندری سرگرمیوں کی حفاظت اور مدد کرنے کے قابل ہوگا، ساتھ ہی اس کے ذریعہ سمندری علاقے میں روایتی اور غیر روایتی خطروں کا مقابلہ بھی کیا جاسکے گا۔

      75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔
      75 سال میں یہ پہلا موقع ہے جب کوئی ہندوستانی وزیر اعظم اقوام متحدہ کے 15 رکنی باڈی کے کسی پروگرام کی صدارت کریں گے۔


      پی ایم او نے کہا، ’ہماری تہذیب پر مبنی عوامی پالیسی ، سمندر کو مشترکہ امن اور خوشحالی کے فروغ کے طور پر دیکھتی ہے۔ اسے دھیان میں رکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے سال 2015 میں ’ساگر‘ (ایس اے جی اے آر- علاقے میں سبھی کے تحفظ اور ترقی) کے نظریے کو سامنے رکھا۔ یہ نظریہ، سمندروں کے پائیدار استعمال کے لیے کوآپریٹو اقدامات پر توجہ مرکوز ہے اور محفوظ اور مستحکم سمندری علاقے کے لئے ایک گائڈ لائن فراہم کرتی ہے۔

      اس میٹنگ میں شامل ہونے والے لیڈران میں روسی صدر ولادی میر پتن، ڈیموکریٹک ریپبلکن آف کانگو کے صدر فیلکس- انٹونی تسیسیکیدی تشلومبو اور امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن شامل ہیں۔ آج کی تقریب میں حصہ لینے والے دیگر لیڈروں میں نائجیریا کے صدر محمد بظوم، کینیا کے صدر اہورو کینیاٹا اور ویتنام کے وزیر اعظم فام منہ چنچ شامل ہیں۔ گزشتہ ہفتے، افغانستان کی صورتحال پر ہندوستان کی صدارت میں ایک اور میٹنگ طلب کی گئی تھی، جہاں رکن ممالک نے خراب ہوتی صورتحال کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا اور سیاسی حل نکالنے کی اپیل کی۔

      پاکستان نے خصوصی میٹنگ میں دعوت نہ دیئے جانے پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ جمعہ کو یو این ایس سی کی میٹنگ کے بعد ایک پریس کانفرنس میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل رکن سفیر منیر اکرم نے کہا، ’ہم نے شراکت داری کے لئے رسمی گزارش کی تھی، لیکن اسے نامنظور کردیا گیا تھا‘۔ ہندوستان اس سال اگست مہینے کے لئے یو این ایس سی کی صدارت کر رہا ہے۔ یکم اگست سے ہندوستان نے یہ ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ یو این ایس سی میں صرف پانچ مستقل رکن امریکہ، چین، برطانیہ، روس اور فرانس ہیں۔ موجودہ وقت میں ہندوستان دو سال کے لئے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: