உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سات سال،7 دورے! اوبامہ، ٹرمپ اور اب بائیڈن سے دوستی کی شروعات، ایسے ہر بار امریکہ میں پی ایم مودی نے جمائی دھاک

    بطور وزیر اعظم مودی کا یہ ساتواں امریکی دورہ ہے۔

    بطور وزیر اعظم مودی کا یہ ساتواں امریکی دورہ ہے۔

    بطور وزیر اعظم مودی کا یہ ساتواں امریکی دورہ ہے۔ پہلے امریکی دورے کے بعد ، پوری دنیا میں پی ایم مودی کی سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ دوستی کے چرچے ہوئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) اس وقت امریکہ کے تین روزہ دورے پر ہیں۔ اپنے امریکی دورے کے دوسرے دن وہ آج امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کی۔ دورے کے پہلے دن انہوں نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے ملاقات کی۔ بطور وزیر اعظم مودی کا یہ ساتواں امریکی دورہ ہے۔ پہلے امریکی دورے کے بعد ، پوری دنیا میں پی ایم مودی کی سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ دوستی کے چرچے ہوئے۔

      وہیں سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پی ایم مودی کے لیے ہاؤڈی مودی پروگرام کا بھی اہتمام کیا۔ یہ پروگرام بھی پوری دنیا میں بہت مقبول رہا۔ ایسی صورتحال میں ہم پی ایم مودی کے سات امریکی دوروں کا ذکر کر رہے ہیں جس میں 2014 میں میڈیسن اسکوائر سے ہاؤڈی مودی اور بائیڈن کی ملاقات کے پروگرام تک کا دورہ شامل ہے۔

      سال 2014: بطور وزیر اعظم پہلا امریکی دورہ۔
      سال 2014 میں مئی کے مہینے میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد پی ایم مودی نے ستمبر کے مہینے میں پہلا امریکی دورہ کیا۔ بطور وزیر اعظم مودی کا یہ پہلا امریکی دورہ بہت مقبول تھا۔ پی ایم مودی نے میڈیسن اسکوائر میں دیے گئے اپنے خطاب سے امریکہ میں موجود ہندستانی شہریوں کا دل جیتا ۔ پی ایم مودی کی امریکہ میں ہندی تقریر نے کافی سرخیاں بنائیں۔ اس دورے کے دوران اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما اور وزیر اعظم مودی کا ایک مشترکہ اداریہ مشہور اخبار واشنگٹن پوسٹ میں بھی چھپا۔

      سال 2015: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلئے گئے امریکہ
      پی ایم مودی اگلے سال 2015 ستمبر کے مہینے میں ایک بار پھر امریکہ پہنچے۔ اس دوران وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکہ گئے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران ٹیک کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے فیس بک ، ٹیسلا ، گوگل جیسی کمپنیوں کا بھی دورہ کیا۔ یہی نہیں اس وقت بھی انہوں نے بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں کے ایک پروگرام سے خطاب کیا جس پر بہت زیادہ چرچا ہوئی۔

      سال 2016: امریکہ کے دو دورے۔
      سال 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دو دورے کیے۔ مارچ میں ، پی ایم مودی دو روزہ نیوکلیئر سییورٹی سمٹ کے لیے امریکہ گئے تھے۔ اسی دوران اس سال جون میں پی ایم مودی نے امریکی پارلیمنٹ کے متحدہ ہاؤس سے بھی خطاب کیا۔ پی ایم مودی ایسے پانچویں وزیر اعظم ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا ہے۔

      سال 2017: مودی نے پہلی بار ٹرمپ سے ملاقات کی۔
      وزیر اعظم مودی نے جون 2017 کے مہینے میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس میں پی ایم مودی کے لیے ڈںر کا انعقاد کیا۔ اسی دورے کا ہندستان کو فائدہ ملا اور امریکہ نے سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔

      2019: ہاؤڈی مودی۔
      سال 2019 میں ستمبر کے مہینے میں پی ایم مودی ایک بار پھر امریکہ پہنچ گئے۔ اس دوران ٹرمپ نے پی ایم مودی کے استقبال کے لیے ہاؤڈی مودی پروگرام کا اہتمام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ میں انتخابی مہم کا وقت تھا۔ اس دوران پی ایم مودی نے بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹرمپ کے ساتھ اسٹیڈیم کا مکمل چکر لگایا۔

      2021: ساتواں امریکی دورہ۔
      کورونا بحران کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم مودی تین روزہ امریکی دورے پر ہیں۔ اس بار اہم توجہ کواڈ کی میٹنگ ہے جبکہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملنے والے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران توقع ہے کہ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ اس سے قبل پی ایم مودی نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے بھی ملاقات کی۔

      وزیر اعظم نریندر مودی (PM Narendra Modi) سے اپنی ملاقات کے دوران ، امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے پاکستان (Pakistan) اور دہشت گردی (Terrorism کے درمیان رابطے کا "از خود نوٹس لیا" ہے۔ سکریٹری خارجہ ہرش وردھن شرنگلا نے جمعہ کو یہ معلومات دی ہے۔ امریکی فریق نے پاکستان اور دہشت گردی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے اسے ہندستان کی جیت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ دراصل ہندستان عالمی برادری کو مسلسل یہ دکھانے کی کوشش کر رہا ہے کہ پڑوسی ملک دہشت گردی میں مدد کر رہا ہے۔ صدر جو بائیڈن (Joe Biden) سے ملاقات سے ایک دن پہلے وائٹ ہاؤس میں کملا ہیرس اور پی ایم مودی کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: