உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وزیر اعظم مودی نے جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکیل سے کی فون پر بات، افغانستان سمیت کئی موضوعات پر تبادلہ خیال

    وزیر اعظم مودی نے جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکیل سے کی فون پر بات

    وزیر اعظم مودی نے جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکیل سے کی فون پر بات

    PM Modi Speak With Angela Merkel: وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بات چیت کےدوران اینجیلا مرکیل نے ہندوستان اور جرمنی کے درمیان سیاسی شراکت کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے عزم کو دہرایا ہے۔

    • Share this:

      نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو جرمنی کی چانسلر اینجیلا مرکیل سے افغانستان میں حال کے حادثات سمیت دو طرفہ، کثیرالجہتی اور علاقائی امور پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعظم مودی نے خود ٹوئٹ کرکے اس کی اطلاع دی۔ وزیر اعظم مودی نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ انہوں نے اینجیلا مرکیل سے دو طرفہ، کثیرالجہتی اور علاقائی امور پر بات کی۔ اس میں افغانستان میں حال ہی میں پیش آئے حادثات بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ہندوستان - جرمنی سیاسی شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لئے اپنے عزم کو دہرایا۔


      وزیر اعظم دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکیل نے افغانستان میں بڑھتی سیکورٹی کی صورتحال اور علاقے اور دنیا پر اس کے اثر پر تبادلہ خیال کیا، جس میں کووڈ-19 ٹیکوں کو لے کر تعاون، اس میں ترقیاتی تعاون اور تجارت و اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا شامل ہے، جس میں آب و ہوا اور توانائی پر توجہ مرکوز ہے۔


      اس سے قبل وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی گزشتہ 21 اگست کو جرمنی کے اپنے ہم منصب ہیکو ماس سے افغانستان کے تازہ حالات پر اور کابل سے لوگوں کی ایمرجنسی انخلا سے متعلق چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔




       وزیر اعظم دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکیل نے افغانستان میں بڑھتی سیکورٹی کی صورتحال اور علاقے اور دنیا پر اس کے اثر پر تبادلہ خیال کیا۔

      وزیر اعظم دفتر کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمن چانسلر اینجیلا مرکیل نے افغانستان میں بڑھتی سیکورٹی کی صورتحال اور علاقے اور دنیا پر اس کے اثر پر تبادلہ خیال کیا۔

      کابل میں 15 اگست کی شام کو طالبان کا قبضہ ہونے کے بعد افغانستان میں تیزی سے بدلتے حالات پر ہندوستان نے امریکہ، برطانیہ اور کئی دیگر ممالک کے ساتھ رابطہ کر رکھا ہے۔ طالبان کے قبضے کے بعد کابل ہوائی اڈے کے آس پاس مچی افراتفری کی صورتحال کے مدنظر وہاں سے لوگوں کو نکالنے میں ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔


      واضح رہے کہ دو دہائی تک چلی جنگ کے بعد امریکہ کی فوجیوں کی مکمل واپسی سے دو ہفتے پہلے طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا۔ باغیوں نے پورے ملک میں کہرام مچا دیا اور کچھ ہی دنوں میں سبھی بڑے شہروں پر قبضہ کرلیا کیونکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ذریعہ ٹرینڈ افغان سیکورٹی اہلکاروں نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ طالبان کا 1990 کی دہائی کے آخر میں ملک پر قبضہ تھا اور اب ایک بار پھر اس کا قبضہ ہوگیا ہے۔


      امریکہ کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال اپنی مدت کار میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔ وہیں، امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن نے اس منصوبہ کو حقیقی معنوں میں انجام دے دیا اور 31 اگست تک آخری دور کے فوجیوں کی واپسی کی مدت طے کردی ہے۔ حالانکہ، اب وہ اسے 31 اگست کی متعینہ وقت کو آگے بڑھانے پر غور کر رہے ہیں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: