உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistanمیں بڑھے گا سیاسی بحران، اپوزیشن قائدین کے خلاف ملک سے غداری کا کیس درج کرنے کی تیاری، کسی بھی وقت گرفتاری ممکن

    پاکستان میں سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں جاری۔ کسی بھی وقت اپوزیشن لیڈروں کو کیا جاسکتا ہے گرفتار۔

    پاکستان میں سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں جاری۔ کسی بھی وقت اپوزیشن لیڈروں کو کیا جاسکتا ہے گرفتار۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر ملک کے سیاسی حالات ایسے ہی رہے اور محاذ آرائی جاری رہی تو فوج متحرک ہو جائے گی اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ تمام چیزیں اتوار کی شام تک کھل کر سامنے آجائیں گی۔

    • Share this:
      اسلام آباد: آج اتوار کو تحریک عدم اعتماد سے قبل پاکستان کی سیاست میں کچھ بہت بڑا اور خطرناک ہونے کا اندیشہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے جمعہ کو واضح کیا تھا کہ وہ ’سنڈے سرپرائز‘ دینے جا رہے ہیں۔ ان کے اس مبینہ سرپرائز کے بارے میں کچھ معلومات تھوڑی تھوڑی سامنے آرہی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کے تمام رہنماؤں کو کسی بھی وقت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ اس سے پہلے ان کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اپریل میں چھن گئی3پاکستانیPMکی کرسی:خواجہ نظام الدین،گیلانی اور شریف کے بعدعمران کا نمبر؟

      ویسے شیڈول کے مطابق اتوار کو تین بڑی چیزیں ہو سکتی ہیں۔ 1- تحریک عدم اعتماد پر بحث۔ 2- اگر اسپیکر چاہے تو ووٹنگ۔ اسلام آباد میں عمران کی ریلی۔

      فوج اور عمران خان دونوں کے بہت قریب سمجھے جانے والے پاکستان کے سینئر صحافی انصار عباسی کے مطابق عمران خان حکومت کسی بھی وقت اپوزیشن کے تمام رہنماؤں کو گرفتار کر سکتی ہے۔ ان کی گرفتاری سے قبل ان سب کے خلاف ملک سے غداری کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔ اس کے لیے خفیہ میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ ان لیڈروں پر ملک کے خلاف غیر ملکی سازش میں ملوث ہونے پر دفعہ لگائی جائے گی۔ حکومت کو ایسا کرنے کا حق ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان کو آنکھ بتانے والے عمران خان کے دن ہوئے پورے؟ کیا ہیں عمران کے پاس آپشن؟

      کیا فوج ساتھ دے گی؟
      عباسی کے مطابق فوج نے اپوزیشن اور عمران دونوں کے سامنے تین چیزیں رکھی تھیں۔ پہلا: عمران استعفیٰ دیں۔ دوسرا یہ کہ مخلوط حکومت بنائی جائے۔ تیسرا: پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے فوری طور پر نئے انتخابات کرائے جائیں۔

      معلومات کے مطابق عمران پہلی شرط پر تیار نہیں تھے۔ تیسری شرط یا بات آصف علی زرداری کو منظور نہیں تھی۔ لہذا، یہ درمیانی راستہ بند کردیا گیا ہے. اب اپوزیشن لیڈروں کو گرفتار کرنے اور ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے کے معاملے میں فوج کیا کرے گی، فی الحال یہ واضح نہیں ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر ملک کے سیاسی حالات ایسے ہی رہے اور محاذ آرائی جاری رہی تو فوج متحرک ہو جائے گی اور ایمرجنسی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ تمام چیزیں اتوار کی شام تک کھل کر سامنے آجائیں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: