உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دنیا کی پہلی حاملہ حنوط شدہ لاش، پیٹ میں بغیر ہڈیوں کے 28 ماہ تک محفوظ رہا جنین، مصر کے عجائب گھر کا ہے معاملہ

    جب  حنوط شدہ لاش کا سی ٹی اسکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ موت کے وقت خاتون  حاملہ تھی۔ سی ٹی اسکین میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنین  صدیوں تک حنوط شدہ لاش کے پیٹ کے اندر بوگ باڈیز کی طرح محفوظ رہا۔ بوگ باڈیز کو انسانی لاشوں کو  کہا جاتا ہے جب وہ قدرتی طور پر ممی mummy  بنتے ہیں۔

    جب حنوط شدہ لاش کا سی ٹی اسکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ موت کے وقت خاتون حاملہ تھی۔ سی ٹی اسکین میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنین صدیوں تک حنوط شدہ لاش کے پیٹ کے اندر بوگ باڈیز کی طرح محفوظ رہا۔ بوگ باڈیز کو انسانی لاشوں کو کہا جاتا ہے جب وہ قدرتی طور پر ممی mummy بنتے ہیں۔

    جب حنوط شدہ لاش کا سی ٹی اسکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ موت کے وقت خاتون حاملہ تھی۔ سی ٹی اسکین میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنین صدیوں تک حنوط شدہ لاش کے پیٹ کے اندر بوگ باڈیز کی طرح محفوظ رہا۔ بوگ باڈیز کو انسانی لاشوں کو کہا جاتا ہے جب وہ قدرتی طور پر ممی mummy بنتے ہیں۔

    • Share this:
      قاہرہ۔ مصر میں ایک حنوط شدہ لاش (Egyptian fetus)  کے پیٹ سے ملنے والے 28 ماہ کے جنین کا معاملہ حل ہو گیا ہے۔ یہ جنین پچھلے 2000 سال سے ماں کے پیٹ میں محفوظ تھا۔ یہ جنین بالکل ایسے ہے جیسے اچار کئی سالوں تک محفوظ رہتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ مصر کی پہلی حاملہ حنوط شدہ نعش ہے۔ موت کے وقت اس عورت کی عمر تقریباً 30 سال رہی ہو گی۔ اس کی موت فرسٹ سنچری بی سی BC  میں ہوئی ہوگی۔ محققین نے حنوط شدہ نعش (Mmmified fetus) کو پراسرار خاتون کا نام دیا ہے۔ جنین کا پتہ لگانے کے لیے اس کا سی ٹی اسکین کیا گیا۔ اس کے بعد یہ چونکا دینے والی معلومات منظر عام پر آئیں۔

      دلچسپ کھوج نے چھوڑا اہم سوال۔۔۔
      2021 میں اس کی تحقیق کے بعد سے یہ سائنسدانوں کے لیے ایک مسٹری  بنی ہوئی تھی۔ اب بتایا گیا ہے کہ خاتون کے جسم کے ٹکڑے ہونے کے بعد اس جنین کو تیزاب acidification کے ذریعے محفوظ رکھا گیا تھا۔ گزشتہ سال اپریل میں وارسا یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے سی ٹی اسکین  اور ایکسرے کے ذریعے غیر پیدائشی بچے کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔

      mummy
      گزشتہ سال اپریل میں وارسا یونیورسٹی کے محققین کی ایک ٹیم نے سی ٹی اور ایکسرے اسکین کے ذریعے غیر پیدائشی بچے کی باقیات کی موجودگی کا انکشاف کیا تھا۔یونیورسٹی کی ٹیم 2015 سے اس قدیم مصر کی حنوط شدہ نعش پر کام کر رہی ہے۔ جب پچھلے سال اسکین میں حنوط شدہ نعش کے پیٹ کے اندر ایک چھوٹا سا پاؤں نظر آیا تب  انہیں سمجھ آیا  کہ ان کے ہاتھ کیا لگا ہے۔

      ڈلیوری کے دوران نہیں ہوئی تھی خاتون کی موت
      محققین نے جنین کی پوزیشن اور برتھ کینال کا مطالعہ کیا اور بتایا کہ اس پراسرار خاتون کی ڈلیوری کے دوران موت نہیں ہوئی۔ موت کے وقت اس خاتون کے پیٹ میں موجود جنین  26 سے 30 ہفتے کا تھا۔ ٹیم نے امید ظاہر کی  ہے کہ یہ بہت ممکن ہے کہ دیگر حاملہ حنوط شدہ لاشیں بھی دنیا کے الگ۔الگ عجائب گھروں میں رکھی ہوں۔ لہذا ہمیں ان سب کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے۔ پراسرار خاتون اور اس کے پیدا ہونے والے بچے کا مطالعہ ماہر آثار قدیمہ اور ماہر حیاتیات مارجینا اولاریک سلکے اور پولینڈ کی وارسا یونیورسٹی کے ساتھیوں نے کیا ہے۔

      جب mummy کا سی ٹی اسکین کیا گیا تو پتہ چلا کہ موت کے وقت خاتون کے پیٹ میں جنین پل  رہا تھا۔ سی ٹی اسکین میں بتایا گیا ہے کہ یہ جنین  صدیوں تک حنوط شدہ لاش کے پیٹ کے اندر بوگ باڈیز کی طرح محفوظ رہا۔ بوگ باڈیز کو انسانی لاشوں کو  کہا جاتا ہے جب وہ قدرتی طور پر ممی mummy  بنتے ہیں۔ یعنی ان کے حنوط شدہ لاش بننے میں بہت زیادہ تیزابا ور بیحد کم آکسیجن کا کرول ہوتا ہے۔ یہ پیٹ بوگ کہلاتا ہے۔

      ڈاکٹر ووجسیز ایسمنڈ نے کہا کہ ہماری تحقیق میں معلوم ہوا کہ جنین کی ہڈیاں بچ نہیں پائیں ۔ یہ اس وقت ہوا ہو جب حاملہ خاتون کو ممی حنوط شدہ لاش بنایا جا رہا ہو، یا ممی  mummy  بننے  کے کچھ دنوں بعد ہڈیاں گل گئی ہوں گی لیکن شکل برقرار رہ گئی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: