உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا- ملک میں بدترین سیکورٹی صورتحال کی ذمہ داری امریکہ پر

    افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اسی کے ساتھ کہا کہ جب تک طالبان امن کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کرتے، اس وقت تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔

    افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں طالبان کے بڑھتے ہوئے کنڑول کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں انخلا کے نتیجے میں سیکورٹی کی بدترین صورتحال ہے۔ یہ الزام انہوں نے افغان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے لگایا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      کابل: افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ملک میں طالبان کے بڑھتے ہوئے کنڑول کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ’جلدبازی‘ میں انخلا کے نتیجے میں سیکورٹی کی بدترین صورتحال ہے۔ یہ الزام انہوں نے افغان پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے لگایا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، افغان پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ’جو موجودہ صورتحال ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ امریکہ نے جلدبازی میں افغانستان سے فوجی انخلا کیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا کہ مکمل انخلا کے’سنگین نتائج‘ ہوں گے۔
      دوسری جانب افغان آرمی نے بتایا کہ جنوبی اور مغربی حصے کے تین صوبوں میں سیکورٹی کی صورتحال ’انتہائی نازک‘ ہے، جہاں طالبان اور افغان فورسز کے مابین تصادم مزید تیزی اختیار کرچکی ہیں۔ طالبان نے حالیہ حملے میں متعدد اضلاع کا کنٹرول حاصل کرلیا جبکہ اب جنگجوؤں کی پیش قدمی صوبائی دارالحکومتوں کی جانب ہے۔




      دوسری جانب افغان آرمی نے بتایا کہ جنوبی اور مغربی حصے کے تین صوبوں میں سیکورٹی کی صورتحال ’انتہائی نازک‘ ہے، جہاں طالبان اور افغان فورسز کے مابین تصادم مزید تیزی اختیار کرچکی ہیں۔
      دوسری جانب افغان آرمی نے بتایا کہ جنوبی اور مغربی حصے کے تین صوبوں میں سیکورٹی کی صورتحال ’انتہائی نازک‘ ہے، جہاں طالبان اور افغان فورسز کے مابین تصادم مزید تیزی اختیار کرچکی ہیں۔

      افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اسی کے ساتھ کہا کہ جب تک طالبان امن کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کرتے، اس وقت تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔ افغان صدرنے کہا کہ ہم نے اپنی ترجیحات طے کرلی ہیں، طالبان اور ان کے حامی اپنی ترجیحات طے کرلیں، ہم یا تو مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے یا ان کےگھٹنے میدان جنگ میں توڑ دیں گے۔ تاہم اشرف غنی نے کہا کہ ہماری جیت کے لئے واحد راستہ صرف اتحاد ہے، افغان خواتین کو یقین دلاتا ہوں کہ قوم ان کے حقوق کا دفاع کر رہی ہے۔





      افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اسی کے ساتھ کہا کہ جب تک طالبان امن کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کرتے، اس وقت تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔
      افغانستان کے صدر اشرف غنی نے اسی کے ساتھ کہا کہ جب تک طالبان امن کے لئے آمادگی ظاہر نہیں کرتے، اس وقت تک صورت حال تبدیل نہیں ہو سکتی۔

      ڈان کی رپورٹ کے مطابق اس کے علاوہ افغان صدر نے پارلیمنٹ میں اپنا سیکورٹی منصوبہ پیش کیا ہے، لیکن اس منصوبے سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی۔ مقامی میڈیا کے مطابق اشرف غنی نے ’6 ماہ پر مشتمل سیکورٹی پلان پر بات کی اور کہا کہ اس دوران حالات بہت بہتر ہوجائیں گے‘۔ تاہم انہوں نے منصوبے سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
      اس حوالے سے عالمی برادری کے اراکین اور سفارتکاوں سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ اشرف غنی کو تفصیل کے ساتھ اپنا سیکورٹی منصوبہ پیش کرنا چاہئے۔
      بعدازاں افغانی صدر اشرف غنی کے سیکورٹی پلان سے متعلق طالبان نے بیان جاری کیا کہ جس میں افغان صدر کے بیانات کو ’بکواس‘ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی خراب دماغی حالات اور غلطیوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔طالبان نے کہا کہ قوم نے قومی غداروں کے خلاف مقدمہ چلانے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے، جنگ کے اعلانات، الزامات لگانا اور غلط معلومات فراہم کرنا اشرف غنی کی زندگی کو طول نہیں دے سکتا، اس کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے 31 اگست تک مکمل انخلا کے بعد افغانستان میں طالبان کا کنٹرول وسیع ہوتا جارہا ہے۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: