உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بائیڈن سے ملاقات کے بعد نیویارک پہنچے پی ایم مودی، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے کریں گے خطاب

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیر اعظم مودی کو بتایا اپنا دوست، ہندوستان-امریکہ سے متعلق کہیں یہ بڑی باتیں

    امریکی صدر جو بائیڈن نے وزیر اعظم مودی کو بتایا اپنا دوست، ہندوستان-امریکہ سے متعلق کہیں یہ بڑی باتیں

    پی ایم یو این جی اے کے 76 ویں سیشن سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم مودی تین روزہ دورے پر بدھ کے روز واشنگٹن پہنچے تھے یہ کووڈ 19 وبائی امراض کے پھیلنے کے بعد پہلا دورہ ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      واشنگٹن: وزیر اعظم نریندر مودی جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی وقت پر دیر سے منعقد ہونے والے کواڈ سمٹ Quad Summit) کے بعد نیویارک (New York) پہنچ گئے ہیں جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) (UNGA) کو خطاب کریں گے۔ پی ایم یو این جی اے کے 76 ویں سیشن سے خطاب کریں گے۔ وزیر اعظم مودی تین روزہ دورے پر بدھ کے روز واشنگٹن پہنچے تھے یہ کووڈ 19 وبائی امراض کے پھیلنے کے بعد پہلا دورہ ہے۔
      اس دورے کے دوران ، وزیر اعظم نریندر مودی نے آسٹریلیا اور جاپان کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ امریکی صدر جو بائیڈن کے زیر اہتمام کواڈ لیڈران کے پہلے انفرادی  شیکھر سمیلن میں شرکت کی۔ ملاقات کے دوران ، وزیر اعظم مودی نے کہا ، وہ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ گروپ آف فور ڈیموکریسی ایک عالمی طاقت کے طور پر کام کرے گی اور انڈو پیسفک کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں امن اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔



      وزیر اعظم نریندر مودی (Narendra Modi) کے ساتھ ملاقات میں امریکی صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے امریکہ-ہندوستان کی مضبوط ہوتی دوستی کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنا دوست بتایا ہے۔ انہوں نے کہا- ’اپنے دوست کا وہائٹ ہاوس میں استقبال کرتا ہوں۔ میں نے وزیر اعظم مودی سے کہا کہ ہر روز اس سیٹ پر ایک ہندوستانی امریکی بیٹھتی ہے۔ کملا ہیرس کی ماں ایک مشہور سائنسداں تھیں۔ ہندوستان اور امریکہ دنیا کے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہندوستان اور امریکہ سب سے زیادہ قریبی ملک ہوں گے‘۔

      ہندوستان سے اپنی وابستگی پر جو بائیڈن نے کہا- جب میں ممبئی میں چیمبور میں تھا تب ہندوستان کے پریس کے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیاں میرے رشتہ دار ہندوستان میں ہیں؟ میں نے کہا مجھے معلوم نہیں۔ میں 29 سال کا تھا جب مجھے کسی شخص نے خط لکھا، تب اس میں کہا تھا کہ میرا نام بھی جو بائیڈن ہے۔ پریس نے بتایا کہ پانچ لوگ ہیں، جن کا نام بائیڈن ہے۔ ایک جارج بائیڈن تھے، جو کیپٹن تھے۔

       


      ’ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مضبوط ہونا ہے‘
      ہندوستان امریکہ کے مضبوط تعلقات کو لے کر جو بائیڈن نے کہا- ہندوستان اور امریکہ کے تعلقات کو مزید مضبوط ہونا ہے۔ آج ہندوستان اور امریکہ کا نیا باب شروع کریں گے۔ سب سے پہلے کورونا کے خلاف لڑیں گے۔ آج وزیر اعظم (نریندر مودی) اور میں بات کریں گے کہ کس طرح کورونا وبا کو دور کیا جائے۔ ہماری جو آپس میں شراکت داری ہے، ہم چاہتے ہیں کہ اس میں ایک استحکام ہو۔ یہاں 4 ملین ہندوستانی نژاد کے لوگ ہیں، جو ہمیں زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔ آئندہ ہفتے مہاتما گاندھی کی سالگرہ کی صدی منائیں گے۔ ان کے بتائے ہوئے عدم تشدد کے درس کو دوہرائیں گے‘۔
      کیا بولے وزیر اعظم نریندر مودی
      وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا- ہندوستانی وفد کا استقبال کرنے کے لئے میں آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔ سال 2014 میں مجھے آپ سے تفصیل سے بات کرنے کا موقع ملا۔ اس وقت آپ کا ہندوستان امریکہ کے تعلقات میں جو وژن تھا، وہ بھی ترغیب والا تھا۔ صدر کے طور پر اس وژن کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کا میں استقبال کرتا ہوں‘۔



      بطور وزیر اعظم مودی کا یہ ساتواں امریکی دورہ ہے۔ پہلے امریکی دورے کے بعد ، پوری دنیا میں پی ایم مودی کی سابق صدر باراک اوباما کے ساتھ دوستی کے چرچے ہوئے۔

      سال 2014: بطور وزیر اعظم پہلا امریکی دورہ۔
      سال 2014 میں مئی کے مہینے میں وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد پی ایم مودی نے ستمبر کے مہینے میں پہلا امریکی دورہ کیا۔ بطور وزیر اعظم مودی کا یہ پہلا امریکی دورہ بہت مقبول تھا۔ پی ایم مودی نے میڈیسن اسکوائر میں دیے گئے اپنے خطاب سے امریکہ میں موجود ہندستانی شہریوں کا دل جیتا ۔ پی ایم مودی کی امریکہ میں ہندی تقریر نے کافی سرخیاں بنائیں۔ اس دورے کے دوران اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما اور وزیر اعظم مودی کا ایک مشترکہ اداریہ مشہور اخبار واشنگٹن پوسٹ میں بھی چھپا۔

      سال 2015: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کیلئے گئے امریکہ
      پی ایم مودی اگلے سال 2015 ستمبر کے مہینے میں ایک بار پھر امریکہ پہنچے۔ اس دوران وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے امریکہ گئے۔ انہوں نے اپنے دورے کے دوران ٹیک کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے فیس بک ، ٹیسلا ، گوگل جیسی کمپنیوں کا بھی دورہ کیا۔ یہی نہیں اس وقت بھی انہوں نے بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں کے ایک پروگرام سے خطاب کیا جس پر بہت زیادہ چرچا ہوئی۔

      سال 2016: امریکہ کے دو دورے۔
      سال 2016 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکہ کے دو دورے کیے۔ مارچ میں ، پی ایم مودی دو روزہ نیوکلیئر سییورٹی سمٹ کے لیے امریکہ گئے تھے۔ اسی دوران اس سال جون میں پی ایم مودی نے امریکی پارلیمنٹ کے متحدہ ہاؤس سے بھی خطاب کیا۔ پی ایم مودی ایسے پانچویں وزیر اعظم ہیں جنہیں یہ اعزاز ملا ہے۔

      سال 2017: مودی نے پہلی بار ٹرمپ سے ملاقات کی۔
      وزیر اعظم مودی نے جون 2017 کے مہینے میں امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ ٹرمپ نے صدر بننے کے بعد پہلی بار وائٹ ہاؤس میں پی ایم مودی کے لیے ڈںر کا انعقاد کیا۔ اسی دورے کا ہندستان کو فائدہ ملا اور امریکہ نے سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔

      2019: ہاؤڈی مودی۔
      سال 2019 میں ستمبر کے مہینے میں پی ایم مودی ایک بار پھر امریکہ پہنچ گئے۔ اس دوران ٹرمپ نے پی ایم مودی کے استقبال کے لیے ہاؤڈی مودی پروگرام کا اہتمام کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ میں انتخابی مہم کا وقت تھا۔ اس دوران پی ایم مودی نے بیرون ملک میں مقیم ہندوستانیوں سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ٹرمپ کے ساتھ اسٹیڈیم کا مکمل چکر لگایا۔

      2021: ساتواں امریکی دورہ۔
      کورونا بحران کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر اعظم مودی تین روزہ امریکی دورے پر ہیں۔ اس بار اہم توجہ کواڈ کی میٹنگ ہے جبکہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن سے بھی ملنے والے ہیں۔ اس ملاقات کے دوران توقع ہے کہ دوطرفہ تعلقات کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ اس سے قبل پی ایم مودی نے امریکی نائب صدر کملا ہیرس سے بھی ملاقات کی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: