ہوم » نیوز » عالمی منظر

جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ شروع کرنےاورلیڈروں کی حراست ختم کرنےکے لئےامریکی پارلیمنٹ میں تجویز

مودی حکومت کے ذریعہ پانچ اگست کوجموں وکشمیرکوخصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کوہٹانےاوراسے مرکزکے زیرانتظام دوخطوں میں تقسیم کرنےکےاعلان کےبعد سے ہی وہاں کئی طرح کی پابندیاں عائد ہیں۔

  • Share this:
جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ شروع کرنےاورلیڈروں کی حراست ختم کرنےکے لئےامریکی پارلیمنٹ میں تجویز
جموں وکشمیرمیں آرٹیکل 370 ہٹائے جانےکے بعد سے انٹرنیٹ پرپابندی عائد ہے۔

واشنگٹن: ہندوستانی امریکی رکن پارلیمنٹ پرملا جے پال نےامریکی پارلیمنٹ میں جموں  وکشمیرسے متعلق ایک تجویزپیش کرتےہوئے ہندوستان سے وہاں لگائی گئی مواصلات پر پابندیاں جلد ازجلد ہٹانےاورسبھی باشندوں کی مذہبی آزادی کا تحفظ کئےجانےکی اپیل کی۔

جے پال کےذریعہ کئی ہفتےکی کوششوں کے بعد ایوان میں پیش کی گئی اس تجویزکوکنساس کے ریپبلکن رکن پارلیمنٹ اسٹیوواٹکنس کے طورپرصرف ایک رکن کی حمایت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک تجویزہے، جس پردوسرے ایوان میں ووٹ نہیں کیا جاسکتا اوریہ قانون نہیں بنےگا۔ تجویزمیں ہندوستان سے پورے جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ خدمات  پرعائد پابندیوں کو ہٹانےاورانٹرنیٹ خدمات کوبحال کرنےکی اپیل کی گئی ہے۔

ہندوستانی حکومت کے ذریعہ پانچ اگست کوجموں وکشمیرکوخصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کوہٹانےاوراسے مرکزکے زیرانتظام دوخطوں میں تقسیم کرنےکےاعلان کے بعد سے ہی وہاں کئی طرح کی پابندیاں لگی ہوئی ہیں۔ اس تجویزکو پیش کئے جانے سے قبل پورے امریکہ میں ہندوستانی نژاد امریکیوں نے مختلف اسٹیج سےاس کی مخالفت کی تھی۔ سمجھا جاتا ہےکہ ان کے دفترکواس تجویزکوپیش نہیں کرنےکے لئے ہندوستانی امریکیوں کے25 ہزارسے زیادہ ای میل موصول ہوئے۔

ہندوستانی امریکیوں نے کیا احتجاج ہندوستانی امریکیوں نےکشمیرپرتجویزپیش کرنےکےان کے قدم کے خلاف ان کے دفترکے باہرپُرامن طریقےسے احتجاج بھی کیا۔ پرملا جے پال نے ٹوئٹ کیا 'کل میں نےاسٹیوواٹکنس کے ساتھ مل کرایوان میں ایک تجویزپیش کی اورہندوستانی حکومت سے جموں وکشمیرمیں مواصلات پرعائد پابندیوں کوجلدازجلد ہٹانےاورسبھی باشندوں کی مذہبی آزادی محفوظ رکھے جانےکی اپیل کی۔ انہوں نےکہا 'میں نےامریکہ - ہندستان کے خصوصی تعلقات کومضبوط کرنے کی لڑائی لڑی ہے، جس وجہ سے میں بے حد فکرمند ہوں۔ لوگوں کوبغیرکسی الزام کے حراست میں لینا، مواصلات کومحدود کرنا اورغیرجانبدارتیسری پارٹی کواس علاقے میں جانے سے روکنا ہمارے قریبی، اہم دوطرفہ تعلقات کےلئے نقصاندہ ہے۔
First published: Dec 08, 2019 05:24 PM IST