ہوم » نیوز » عالمی منظر

پڑھیں: کیا ہے مدھیشی تحریک، کیوں سلگ اٹھا اس سے نیپال؟

کون ہیں مدھیشی: مدھیشی بنیادی طور پر نیپالی باشندے ہیں جو نیپال کے جنوبی حصے کے میدانی علاقے میں رہتے ہیں۔

  • Share this:
پڑھیں: کیا ہے مدھیشی تحریک، کیوں سلگ اٹھا اس سے نیپال؟
کون ہیں مدھیشی: مدھیشی بنیادی طور پر نیپالی باشندے ہیں جو نیپال کے جنوبی حصے کے میدانی علاقے میں رہتے ہیں۔

کون ہیں مدھیشی: مدھیشی بنیادی طور پر نیپالی باشندے ہیں جو نیپال کے جنوبی حصے کے میدانی علاقے میں رہتے ہیں۔ اس علاقے کو 'ترائی علاقے' بھی کہتے ہیں۔ اس علاقے کو 'مدھیش' بھی کہتے ہیں۔ مدھیش لفظ 'مدھيہ دیش' سے ماخوذ ہے۔ یہاں کی زمین زرخیز ہے اور آبادی بھی گھنی ہے۔ مدھیشیوں میں اس بات کا غصہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔

کیوں مشتعل ہیں مدھیشی: نیپال میں مدھیشيوں کی تعداد سوا کروڑ سے زیادہ ہے۔ ان کی بولی میتھلی ہے۔ یہ ہندی اور نیپالی بھی بولتے ہیں۔ ہندستان کے ساتھ ان کا ہزاروں سال پرانا روٹی اور بیٹی کا تعلق ہے۔ لیکن ان میں سے 56 لاکھ لوگوں کو اب تک نیپال کی شہریت نہیں مل پائی ہے۔ جنہیں شہریت ملی بھی ہے، وہ کسی کام کی نہیں کیونکہ انہیں نہ ہی سرکاری نوکری میں جگہ ملتی ہے اور نہ ہی جائیداد میں۔ یعنی صرف کہنے کو نیپالی شہری۔ اسی امتیازی سلوک کے خلاف مدھیشی تحریک چلا رہے ہیں۔ نیپال میں پہاڑ کی محض سات آٹھ ہزار کی آبادی پر ایک ایم پی ہے لیکن ترائی میں ستر سے ایک لاکھ کی آبادی پر ایک ایم پی ہے۔ مدھیشی نیپال میں ایک مختلف مدھیشی ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سات صوبے کے ماڈل کی مخالفت: نیپال کے آئین مسودہ کمیٹی ،سی ڈی سی، کے صدر کرشنا پرساد ستولا نے اتوار کو مدھیشی کی پارٹیوں اور راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی، نیپال کے ہنگامے کے درمیان آئینی بل پیش کیا تھا۔ نئے آئین کے آخری مسودے میں سات صوبے ماڈل کی تجویز سے ناخوش 11 سیاسی جماعتوں نے سی اے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ وجے کمار کی قیادت والی مدھیشی جن ادھكار فورم، لوک تانترک نے بھی اتوار کو آئین ساز اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ اب مدھیشی کی تمام علاقائی پارٹیاں آئین کے مسودے کے خلاف کھڑی ہیں۔

صورت حال کنٹرول میں لانے کے لئے حکومت فوج بھیجے گی: اتوار کو نیپال پارلیمنٹ میں پیش نئے قومی آئین کا ہدف نیپال کو وفاقی ملک بنانا اور اسے 7 صوبوں میں تقسیم کرنا ہے۔ مظاہرین مسودہ چارٹر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ صوبے سے مدھیشیوں سمیت حاشیہ پر رہنے والے کمیونٹیز کے لئے سیاسی نمائندگی یقینی نہیں بنی ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ اس سے تاریخی طور پر حاشیہ پر رہ رہے کمیونٹیز کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ یہ تحریک پیر کو اور بھڑک اٹھی۔ نیپال کے وزیر داخلہ بامدیو گوتم نے کہا کہ حکومت صورتحال کنٹرول میں لانے کے لئے فوج بھیجے گی۔ انہوں نے مظاہرین سے امن کی اپیل کی ہے۔ مدھیشیوں نے سات صوبے کے ماڈل کو مسترد کر دیا ہے۔  
First published: Aug 24, 2015 10:47 PM IST