پاکستان میں عمران خان مخالف دھرنا ومظاہرہ اتوارتک جاری رکھنے کا اعلان

جماعت علمائے اسلام- فضل الرحمن (جےيوآئی-ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے عمران خان حکومت مخالف دھرنے کو اتوار تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Nov 07, 2019 01:21 PM IST | Updated on: Nov 07, 2019 01:21 PM IST
پاکستان میں عمران خان مخالف دھرنا ومظاہرہ اتوارتک جاری رکھنے کا اعلان

اسلام آباد: پاکستان میں خراب موسم اور سیاسی بحران ختم کرنے کیلئےساتھیوں کے دباؤ کے باوجود ملک کے بڑے مذہبی لیڈر اور جماعت علمائے اسلام- فضل الرحمن (جےيوآئی-ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے عمران خاں حکومت مخالف دھرنے کو اتوار تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے’آزادی مارچ‘ کے دوران دھرنا کے چھٹے دن بھاری بارش اور سردی کے درمیان بدھ کی رات کو اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی نے اتوار کو پڑنے والے 12 ویں ربیع الاول کے موقع پر ایک سیرت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے یہ اعلان پارٹی کی مجلس شوری اور ورکنگ کمیٹی کی الگ الگ میٹنگوں کی صدارت اور پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چودھری پرویز الہی کے ساتھ بات چیت کے بعد کی۔ حکومت کی جانب سے بات چیت کے لئے قائم ٹیم کے رکن  پرویز الہی نے حالانکہ مولانا سے ذاتی ملاقات کی تھی۔تمام دن سرکاری کمیٹی اور اپوزیشن رہبر کمیٹی کے درمیان کوئی رسمی رابطہ نہیں ہو سکا. جمعرات کو پھر سے دونوں كمیٹيوں کے ارکان کے ساتھ بیٹھنے اور آزادی مارچ کو ختم کرنے پر بات چیت کا امکان ہے۔

Loading...

مولانا فضل الرحمن کے پاکستان حکومت کے خلاف ’آزادی مارچ‘ سے گھبرائے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ مظاہرین کی ان کے استعفی کے علاوہ تمام ’واجب‘ مانگیں ماننے کو تیار ہیں۔ ’ایکسپریس ٹربیون‘ نے پانچ نومبر کو مسٹر عمران کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے’’استعفی کے علاوہ حکومت تمام واجب مطالبات کو قبول کرنے کے لئے تیار ہے‘‘۔

بتایا جا رہا ہےکہ وزیر اعظم نے یہ بات وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت والے وفد کے ساتھ ایک میٹنگ میں کہی۔ اس وفد کو اسلام آباد میں مظاہرہ کرنے والے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مسئلہ حل کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ مسٹر خٹک کی قیادت والی حکومتی ٹیم نے جے یوآئی-ایف کے رہنماؤں سے ملاقات کر کے آگے کی کارروائی پر بات چیت کی۔ پاکستان میڈیا کے مطابق یہ اجلاس سرکاری مذاکرات وفد اور رہبر کمیٹی کے درمیان دوسرے دور کی بات چیت سے پہلے ہوئی۔خیال رہے رہبر کمیٹی میں اپوزیشن پارٹیوں کے نمائندے شامل ہیں۔

Loading...