ہوم » نیوز » عالمی منظر

بنگلہ دیش: پھانسی کےخلاف جماعت کا مظاہرہ، ہڑتال کی پکار،سیکولر حلقوں کا اظہار مسرت

ڈھاکہ ۔ جماعت اسلامی نے اپنے لیڈر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی پر ایک روزہ ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی پکار دی ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: May 12, 2016 10:47 AM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بنگلہ دیش: پھانسی کےخلاف جماعت کا مظاہرہ، ہڑتال کی پکار،سیکولر حلقوں کا اظہار مسرت
ڈھاکہ ۔ جماعت اسلامی نے اپنے لیڈر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی پر ایک روزہ ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی پکار دی ہے۔

ڈھاکہ ۔ جماعت اسلامی نے اپنے لیڈر مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی پر ایک روزہ ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی پکار دی ہے۔ یہ ہڑتال آج جمعرات کے روز کی جا رہی ہے۔ مولانا نظامی کو کل پچھلے پہر پھانسی کے بعد بھی بنگلہ دیش کے مختلف شہروں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا اور کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرین کی پولیس کے ساتھ مڈ بھیڑ بھی ہوئی۔

ممکنہ مظاہروں کے پیش نظرحکومت نے دارالحکومت سمیت تمام بڑے شہروں میں سکیورٹی کو انتہائی چوکس کر رکھا ہے۔ خاص طور پر دارالحکومت میں ہزاروں پولیس اہلکار تعینات ہیں اور موبائل گشت بھی جاری ہے۔


جماعت اسلامی کے لیڈران کو 2013 سے ملک کی آزادی کی جنگ میں جنگی جرائم کے ارتکاب کرنے پر پھانسی دینے کا سلسلہ جاری ہے اور ان پھانسیوں کے بعد شروع ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں اب تک پورے ملک میں قریب پانچ سو افراد مارے جا چکے ہیں۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کے سیکولر حلقوں نے مطیع الرحمان نظامی کی پھانسی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ کئی سو کے قریب سیکولر افراد ڈھاکہ شہر کے ایک مرکزی چوراہے اور اس جیل کے قریب جمع ہوئے جہاں نظامی کو پھانسی دی گئی۔ انہوں نے مولانا نظامی کو دی گئی پھانسی کو ملکی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ قرار دیا۔ پھانسی کے عدالتی حکم پر عمل درآمد سے قبل جماعت اسلامی کے کئی لیڈروں کو بھی سکیورٹی کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ مطیع الرحمان نظامی کے آبائی علاقے پبنا میں اس مذہبی سیاسی پارٹی کے کم از کم سولہ اہم کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔


پولیس کے مطابق شمال مغربی شہر راجشاہی میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کو ربڑ کی گولیاں چلانا پڑیں۔ پولیس کے مطابق راجشاہی میں جماعت اسلامی کے قریب پانچ سو کارکن جذباتی ہو کر پولیس پر حملہ آور ہوئے اور انہوں نے پتھراؤ بھی شروع کر دیا۔ چاٹگام میں جماعت اسلامی کے قریب ڈھائی ہزار کارکنوں نے جمع ہو کر اپنے لیڈر کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی اور پھر احتجاجی مظاہرے کے دوران جماعت اسلامی کے کارکنوں اور وزیراعظم شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت کے ورکروں کے درمیان مخالفانہ نعرے بازی کے علاوہ ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

First published: May 12, 2016 10:47 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading