உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pakistan: عمران خان کی پاکستانی حکومت کو دھمکی، جیل بھیجا تو ہوجاوں گا مزید خطرناک

    عمران خان کی پاکستانی حکومت کو دھمکی، جیل بھیجا تو ہوجاں گا مزید خطرناک

    عمران خان کی پاکستانی حکومت کو دھمکی، جیل بھیجا تو ہوجاں گا مزید خطرناک

    سابق وزیرا عظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے پاکستان کی حکومت کو دھمکی دی کہ جیل بھیجے جانے پر وہ مزید خطرناک ہوجائیں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان نے جمعرات کو پاکستان کی حکومت کو دھمکی دی کہ جیل بھیجے جانے پر وہ مزید خطرناک ہوجائیں گے۔ عمران خان نے اپنے خلاف دائر دہشت گردی کے ایک معاملے کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری تعیناتی پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ اسلام آباد کے صدر مجسٹریٹ علی جاوید کی شکایت پر پی ٹی آئی سربراہ عمران خان پر 20 اگست کو منعقدہ ریلی کے دوران راجدھانی اسلام آباد کی ایک خاتون جج کو دھمکی دینے کا معاملہ درج کیا گیا ہے۔

      نیوز ایجنسی اے این آئی کی ایک خبر کے مطابق، عمران خان جمعرات کو سخت سیکورٹی کے درمیان اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔ اس کے لئے دوپہر سے ہی عدالت میں سینکڑوں سیکورٹی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔ عمران خان کی رہائش گاہ سے نکلنے سے پہلے پی ٹی آئی کے کئی لیڈر عدالت میں پہنچے تھے، لیکن سیکورٹی افسران نے فواد چودھری، شہزاد وسیم اور دیگر کو روک دیا کوینکہ ان کے نام رجسٹرار دفتر سے دی گئی فہرست میں نہیں تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      PHOTOS: مسلم لڑکی نے مذہب اسلام ترک کرکے ہندو لڑکے سے کرلی شادی، راہل کے لئے اقرا بنی ‘اشکا‘

      یہ بھی پڑھیں۔

      Asia Cup 2022: محمد نبی کا حیران کن انکشاف، پاکستان سے ہار کے بعد لی تھی نیند کی گولیاں

      عمران خان نے صحافیوں سے عدالت میں پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کی بھارتی تعیناتی پر ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ افسران کو کس سے ڈر لگتا ہے۔ عمران خان نے یہ کہتے ہوئے زیادہ بولنے سے انکار کردیا کہ ان کے تبصروں کو عدالت کے ذریعہ غلط سمجھا جاسکتا ہے اور کہا کہ وہ سماعت میں شرکت کرنے کے بعد بولیں گے۔

      سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی مدت کار میں اپنے کسی بھی مخالف کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے قبول کیا کہ کچھ معاملے ایسے بھی تھے، جنہیں غلط طریقے سے نمٹایا گیا، لیکن اس کے بارے میں ان کو بعد میں پتہ چلا۔ عمران خان نے کچھ ‘اہم‘ لوگوں کے ساتھ پچھلے دروازے سے رابطہ کی قیاس آرائیوں کو خارج کردیا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا وہ پی ایم ایل این لیڈر نواز شریف کے رابطہ میں رہنے والے ایک اہم افسر سے ملے ہیں، عمران خان نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان فی الحال 12 ستمبر تک ضمانت پر ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: