عمران خان کے رکن اسمبلی نے ہندوستان میں مانگی تھی پناہ، پی ٹی آئی لیڈرنے قتل کے لئے رکھا 50 لاکھ کا انعام

خالصتان حامی گوپال سنگھ چاؤلہ نے فیس بک پربلدیوکمارکو لے کرایک پوسٹ تحریرکی ہے، اس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستانی حکومت بلدیوکمارکوسیاسی پناہ نہیں دے گی۔ ایسے میں جب بھی بلدیو پاکستان لوٹے گا، میں اسے بارڈرپرہی مارڈالوں گا'۔

Oct 01, 2019 05:33 PM IST | Updated on: Oct 02, 2019 04:23 PM IST
عمران خان کے رکن اسمبلی نے ہندوستان میں مانگی تھی پناہ، پی ٹی آئی لیڈرنے قتل کے لئے رکھا 50 لاکھ کا انعام

بلدیو کمار

چندی گڑھ: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکن اسمبلی بلدیوکمارکواپنے اہل خانہ سمیت جان بچاکرہندوستان میں آنا پڑا ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں سیاسی پناہ کا مطالبہ کیا ہے۔ اس درمیان انہیں پھرسے جان سے مارنے کی دھمکی ملی ہے۔

خالصتان حامی گوپال سنگھ چاؤلہ نے فیس بک پربلدیوکمارکو لےکرایک پوسٹ تحریرکی ہے، اس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستانی حکومت بلدیوکمارکوسیاسی پناہ نہیں دے گی۔ ایسے میں جب بھی بلدیوپاکستان لوٹے گا، میں اسے بارڈرپرہی مارڈالوں گا'۔ گوپال سنگھ چاؤلہ کےعلاوہ عمران خان کی پارٹی کے یونین کونسل کے چیئرمین حاجی نواب نے بھی سوشل میڈیا کےذریعہ بلدیوکمارکےقتل پرانعام کا اعلان کیا ہے۔

Loading...

پی ڈی آئی لیڈرنے قتل کےلئے رکھا انعام

حاجی نواب نے فیس بک پراعلان کیا کہ ہندوستان مین جو بھی بلدیو کمارکا قتل کرے گا، اسے 50 لاکھ روپئے کا انعام دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ حاجی نواب خیبرپختنخوا اسمبلی کے باریکوٹ تحصیل کے یونین کونسل کے چیئرمین ہیں۔ بلدیو سنگھ یہیں سے رکن اسمبلی تھے۔ بلدیوکمارنے نیوز18 سے فون پربات چیت کے دوران یہ اعتراف کیا کہ انہیں پاکستان سے جان سےمارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ بلدیو بتاتے ہیں 'میں ہندوستان میں محفوظ ہوں اور کہیں بھی آنے جانے کےلئےآزاد ہوں۔ یہاں کے لوگ مجھے حمایت کررہے ہیں۔

وزیراعظم مودی سے پھرمانگی سیاسی پناہ

بلدیو کمارکہتے ہیں 'میری وزیراعظم نریندرمودی اورپنجاب کے وزیراعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ سے گزارش ہے کہ وہ میری درخواست کو قبول کریں۔ مجھے اورمیری فیملی کوہندوستان میں سیاسی پناہ دیں۔ پاکستان میں ہندو، سکھ اوردوسرے اقلیتی طبقے کے لوگ محفوظ نہیں ہیں'۔ واضح رہے کہ پاکستان میں حال میں اقلیتوں کے استحصال اورظلم کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔

کرتارپورپربھی دی نصیحت

پاکستان کے سابق رکن اسمبلی بلدیوکمارنے ہندوستانی حکومت کوکرتارپورکاریڈورپربھی نصیحت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی حکومت اورسیکورٹی ایجنسیوں کو پاکستان کے کرتارپورڈیزائن کولے کرمحتاط رہنا چاہئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان سالوں سے کرتارپورکاریڈورکے ایک سائڈ کا استعمال اسمگلنگ کے لئے کرتا رہا ہے۔

Loading...