உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بڑی خبر: طالبان کے ساتھ سفارتی مذاکرات کے درمیان قطر نے اس کے ساتھ ساجھیداری پر دیا زور

    دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ طالبان دو دہائیوں کی شدت پسند سرگرمیوں اور حکمرانی کی جنگ کے بعد کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے تک کس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔

    دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ طالبان دو دہائیوں کی شدت پسند سرگرمیوں اور حکمرانی کی جنگ کے بعد کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے تک کس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔

    دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ طالبان دو دہائیوں کی شدت پسند سرگرمیوں اور حکمرانی کی جنگ کے بعد کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے تک کس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔

    • Share this:
      قطر (Qatar)  کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان  ( Afghanistan)   اور اس کے نئے طالبان  (taliban)  حکمرانوں کو الگ تھلگ کرنا کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بدھ کے روز کہا کہ طالبان کے ساتھ شراکت داری سے کمزور آوازوں کو تقویت دی جا سکتی ہے۔ وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے یہ بات قطر میں سفارتی مذاکرات کے دوران کہی۔ طالبان نے اگست میں افغانستان پر قبضہ کرنے سے قبل کئی سالوں سے قطر میں ایک سیاسی دفتر آپریٹ کیا۔
      دنیا کی نگاہیں اس بات پر ہیں کہ طالبان دو دہائیوں کی شدت پسند سرگرمیوں اور حکمرانی کی جنگ کے بعد کابل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے تک کس طرح کی تبدیلی ہوئی ہے۔ امریکہ  10 یورپی ممالک اور یورپی یونین کے نمائندوں نے اس ہفتے قطر کی راجدھانی دوحہ میں طالبان لیڈران کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات کیے طالبان کی حکومت سنبھالنے کے بعد اس قسم کی یہ پہلی ملاقات ہے۔

      وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوحہ میں انسداد دہشت گردی کے ماہرین سے کہا کہ قطر کا خیال ہے کہ بین الاقوامی برادری کو چاہیے کہ وہ طالبان کے "منفی اقدامات" کیلئے انہیں کی سزا دینے  کی بات کرنے کے بجائے ان سے صحیح قدم اٹھانے کیلئے کہنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ترقی اور آگے بڑھنے کو تقویت ملے گی۔ وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمننے کہا اس سے کمزور آوازوں کو ان کی حکومت میں اور زیادہ متاثر بننے کیلئے ترغیب دینے میں تقویت حاصل ہوگی۔

      امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے منگل کو کہا تھا کہ واشنگٹن نے اس ہفتے طالبان کے ساتھ بات چیت میں واضح کر دیا ہے کہ اس گروہ کو دہشت گردی سے لڑنے اور انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق امور پر اس کی کارروائی پر پرکھا جائے گا۔

      غور طلب ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد پہلی بار امریکہ اور افغانستان میں شخصی بات چیت ہونے جارہی ہے۔ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سینئر لیڈران کے ساتھ بات چیت ہوگی۔ اس کا مقصد غیر ملکی شہریوں اور خطرے سے دوچار افغانوں کو افغانستان سے نکالنا ہے۔ ذرائع کے مطابق میٹنگ میں طالبانی لیڈران کو اس وعدے پر قائم رکھنے پر توجہ مرکوز کرنے کو کہا جائے گا کہ وہ امریکیوں اور دیگر غیر ملکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت دیں ۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: