ہوم » نیوز » عالمی منظر

کوارنٹین کے دوران ہوٹل میں چل رہا تھا سیکس ریکٹ، ہزاروں پر منڈلا رہا ہے اب یہ خطرہ

لاک ڈاون اور سوشل ڈسٹینسنگ سے جڑے سبھی ضوابط کی خلاف ورزی کر چلائے جا رہے سیکس ریکٹ کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس پورے واقعہ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل انکوائری شروع ہو گئی ہے۔

  • Share this:
کوارنٹین کے دوران ہوٹل میں چل رہا تھا سیکس ریکٹ، ہزاروں پر منڈلا رہا ہے اب یہ خطرہ
آسٹریلیا میں کوارنٹین کے دوران سیکس ریکٹ کا انکشاف

میلبرن۔ آسٹریلیا (Australia) کے وکٹوریا شہر میں لاک ڈاون اور سوشل ڈسٹینسنگ سے جڑے سبھی ضوابط کی خلاف ورزی کر چلائے جا رہے سیکس ریکٹ (Sex scandal) کا پردہ فاش ہوا ہے۔ اس پورے واقعہ کی جانچ کے لئے جوڈیشیل انکوائری شروع ہو گئی ہے۔ الزام ہے کہ کچھ ہوٹلوں میں کوارنٹین میں رہ رہے لوگوں کو لڑکیاں فراہم کی جا رہی تھیں۔ صرف ایک ہوٹل سے منسلک ابھی تک اکتیس لوگ انفیکشن کے شکار پائے جا چکے ہیں۔


سی این این کی رپورٹ کے مطابق، ملزمین میں سے زیادہ تر انٹرنینشل کنٹریکٹ ورکرس ہیں جو کہ ملک میں آئے اور کوارنٹین کے ضابطوں کے تحت ہوٹلوں میں رکے ہوئے تھے۔ ان سبھی کو سوشل ڈسٹینسنگ پر عمل کرنے کی سخت ہدایت دی گئی تھی۔ لیکن انہوں نے نہ صرف یہ کہ آپس میں تعلقات قائم کئے بلکہ ہوٹل کی ملی بھگت سے انہیں باہر سے بھی لڑکیاں فراہم کرائی گئی تھیں۔ اس کی جانچ کے لئے وکٹوریا کی انتظامیہ نے ایک ٹیم بنائی ہے اور تین ملین ڈالر کا بجٹ متعین کیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ پورا سیکس اسکینڈل مئی سے لے کر جون کے آخر تک چل رہا تھا اور اس کے ذریعہ ہزاروں لوگوں کے انفیکشن کی زد میں آ جانے کا اندیشہ ہے۔


بتا دیں کہ کورونا انفیکشن پھیلنے کے بعد سے ہی آسٹریلیا میں کوارنٹین کے سخت ضابطے نافذ تھے اور بیرون ملک سے آنے والے ملک کے شہریوں کو چھوڑ کر سبھی کے لئے چودہ دنوں تک ہوٹلوں میں رکنا لازمی تھا۔ آسٹریلیا حکومت نے ہی ان ہوٹلوں کا انتظام کیا تھا۔ میلبرن کے اسٹیمفورڈ پلازا ہوٹل میں اس سیکس ریکٹ کا انکشاف ہوا ہے اور ابھی تک اکتیس لوگ انفیکشن کی زد میں پائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سوانسٹن ہوٹل اور دیگر تین ہوٹلوں کا نام بھی اس کیس کی جانچ کے دوران سامنے آیا ہے۔

First published: Jul 06, 2020 10:15 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading