உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rapes in Pakistan: پاکستان میں عصمت ریزی کارحجان! پنجاب میں جنسی زیادتی کےواقعات پرایمرجنسی کااعلان

    اس کا مقصد شعور بیدار کرنا ہے۔

    اس کا مقصد شعور بیدار کرنا ہے۔

    بچوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے محفوظ ہونے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تیزی سے ڈی این اے کے نمونوں کی تعداد میں اضافہ کرے گی۔

    • Share this:
      انتظامیہ کے مطابق پاکستان کے صوبہ پنجاب میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کی رپورٹس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے حکام علاقے میں ’’ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے پنجاب میں خواتین اور بچوں کے ساتھ عصمت دری اور جنسی زیادتی کی رپورٹوں میں حیران کن اضافے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے نتیجے میں حکام نے سخت اقدامات اٹھائے ہیں۔ ایک پریس کانفرنس کے دوران حکام نے کہا کہ یہ معاشرے اور سرکاری اہلکاروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے۔

      پنجاب کے وزیر داخلہ عطا تارڑ نے جیو نیوز کے حوالے سے بتایا کہ پنجاب میں روزانہ چار سے پانچ ریپ کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے حکومت جنسی ہراسانی، زیادتی اور جبر کے کیسز سے نمٹنے کے لیے خصوصی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔

      پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ریپ کے کیسوں سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ نے ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب میں عصمت دری کے واقعات میں اضافے کی وجہ سے حکام نے بچوں اور خواتین کو حفاظتی امور کے بارے میں آگاہی دینے کے لیے ورکشاپس کرانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

      وزیر نے کہا کہ اس معاملے میں سول سوسائٹی، خواتین کے حقوق کی تنظیموں، اساتذہ اور وکلاء سے مشاورت کی جائے گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کو حفاظت کی اہمیت کے بارے میں سکھائیں۔

      تارڑ نے بتایا کہ متعدد مقدمات میں ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے، حکومت نے انسداد عصمت دری کی مہم شروع کی ہے اور طلبا کو اسکولوں میں ہراساں کرنے کے بارے میں خبردار کیا جائے گا۔

      بچوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے جنسی استحصال کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر داخلہ پنجاب نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے محفوظ ہونے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تیزی سے ڈی این اے کے نمونوں کی تعداد میں اضافہ کرے گی۔

      یہ بھی پڑھیں: BRICSکیا ہے؟ کب ہوا تھا اس کا قیام اور کیا ہے اس کے اصل مقاصد؟

      پاکستان صنفی تشدد کی وبا کا شکار ہے اور اس سے لڑ رہا ہے اور ملک میں تمام طبقات میں خواتین کے خلاف تشدد کی کمی ہے۔ گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس 2021 کی درجہ بندی کے مطابق پاکستان 156 ممالک میں سے 153 ویں نمبر پر ہے، جو کہ عراق، یمن اور افغانستان سے بھی اوپر ہے۔

      یہ بھی پڑھیں: ’چین کرےعالمی قانون کااحترام، ہندوستان کےساتھ بات چیت کےسرحدی تنازع کوکرےحال‘ Australia

      ماہرین کے مطابق پاکستان میں صنفی امتیاز اور جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ امکان ہے کہ جلد ہی ملک میں عصمت دری کا بحران آئے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: