اپنا ضلع منتخب کریں۔

    سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی کو طالبان نے ہوائی اڈے سے لیا حراست میں، دبئی جانے سے روکا

    سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی کو طالبان نے ہوائی اڈے سے لیا حراست میں، دبئی جانے سے روکا

    سابق افغان صدر حامد کرزئی کے بھائی کو طالبان نے ہوائی اڈے سے لیا حراست میں، دبئی جانے سے روکا

    کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد اسلامی گروپ طالبان نے بنیادی حقوق کو سنگین طور سے پابند کرنے والی پالیسیاں لاگو کی ہیں، خاص طور سے خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaKabul
    • Share this:
      افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کے بھائی محمود کرزئی کو کابل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا۔ خامہ پریس نے اتوار کو ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ طالبان کی خفیہ سروس نے انہیں کابل ایئرپورٹ سے حراست میں لیا تھا کیونکہ وہ دبئی جانے والی ایریانا ایئرلائنس کی فلائٹ میں سوار تھے۔

      ذرائع کے مطابق، محمود کرزئی کی گرفتاری کے پیچھے ان کے بھائی حامد کرزئی کا سیاسی تبصرہ ہوسکتا ہے۔ سابق صدر حامد کرزئی خواتین کے حقوق پر پابندی لگانے کو لے کر طالبان حکومت پر تنقید کرتے رہے ہیں اور طالبان سے ’جامع حکومت‘ بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

      خامہ پریس کی رپورٹ کے مطابق، محمود کرزئی جنوبی قندھار صوبے کے جدید اقتصادی شہر اینو مینا میں ایک اہم شیئر ہولڈر ہیں۔ سابق صدر اشرف غنی نے ان پر اینو مینا شہر کی تعمیر کے لئے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔

      ستمبر میں، ملک میں بڑھتے قتل کی وارداتوں کے درمیان این آر ایف اور افغانستان کے اسلامک امارات کے درمیان پنج شیر علاقے میں لڑائی کے لیے کرزئی نے طالبان پر تنقید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ خون خرابہ بند ہونا چاہیے۔ اگست میں، حامد کرزئی نے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگانے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس طرح کا قدم ملک کو مزید پیچھے کی جانب ڈھکیل سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انتظامیہ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آبادی کے سبھی طبقے یہ محسوس کرے کہ حکومت ان کی نمائندگی کررہی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سنگین جرائم کے مرتکب افراد کو فوج میں شامل کرنے کا قانون، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے......!

      یہ بھی پڑھیں:
      اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینی نوجوان ہلاک، اس سال 130 سے ​​زیادہ فلسطینی افراد ہلاک

      کابل میں اقتدار میں آنے کے بعد اسلامی گروپ طالبان نے بنیادی حقوق کو سنگین طور سے پابند کرنے والی پالیسیاں لاگو کی ہیں، خاص طور سے خواتین اور لڑکیوں کے لیے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، طالبان نے سبھی خواتین کو سول سروس میں قیادت کے عہدوں سے برخاست کردیا اور ہے زیادہ تر صوبوں میں لڑکیوں کے ہائیر سیکنری اسکول جانے سے روک دیا۔ طالبان کا فرمان خواتین کو اکیلے سفر کرنے سے روکتا ہے، جب تک کہ وہ ایک مرد رشتہ دار یعنی محرم کے ساتھ نہ ہوں اور خواتین کو اپنے چہرے کو ڈھانکنے کو کہا جاتا ہے، جس میں خواتین ٹی وی نیوز اینکر بھی شامل ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: