உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    WHO Alert Over Monkeypox: پوری دنیا منکی پوکس سے پریشان، 70 سے زیادہ ممالک میں پھیلا منکی پوکس، WHO نے اعلان کیا گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی

    پوری دنیا میں منکی پوکس کے بڑھتے معاملوں سے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) تشویش میں ہے۔ ہفتہ کے روز منکی پوکس سے متعلق ڈبلیو ایچ او (WHO) ہائی الرٹ (Highest Alert) جاری کیا ہے۔

    پوری دنیا میں منکی پوکس کے بڑھتے معاملوں سے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) تشویش میں ہے۔ ہفتہ کے روز منکی پوکس سے متعلق ڈبلیو ایچ او (WHO) ہائی الرٹ (Highest Alert) جاری کیا ہے۔

    پوری دنیا میں منکی پوکس کے بڑھتے معاملوں سے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) تشویش میں ہے۔ ہفتہ کے روز منکی پوکس سے متعلق ڈبلیو ایچ او (WHO) ہائی الرٹ (Highest Alert) جاری کیا ہے۔

    • Share this:
      پوری دنیا میں منکی پوکس کے بڑھتے معاملوں سے متعلق ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (World Health Organization) تشویش میں ہے۔ ہفتہ کے روز منکی پوکس سے متعلق ڈبلیو ایچ او (WHO) ہائی الرٹ (Highest Alert) جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں اب تک تین معاملوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ منکی پوکس کے بڑھتے معاملوں سے متعلق ڈبلیو ایچ او نے عالمی صحت سے متعلق ایمرجنسی (Global Health Emergency) صورتحال کا اعلان کردیا ہے۔

      مئی میں پیر پھیلانے لگا تھا منکی پوکس

      مئی کی شروعات سے ہی منکی پوکس دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او (WHO) نے بتایا ہے کہ اس وقت منکی پوکس کا اثر کئی ممالک میں ہے۔ یہ بیماری ان ممالک میں بھی پھیل رہی ہے، جہاں عام طور پر یہ بیماری پہلے نہیں پائی گئی ہے۔

      ڈبلیو ایچ او کے جنرل ڈائریکٹر ٹیڈروس اے گھیبریسس نے عالمی ادارہ صحت تنظیم کی ‘ایمر جنسی کمیٹی‘ کے اراکین کے درمیان عام رضا مندی نہیں بن پانے کے باوجود یہ اعلان کیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب ڈبلیو ایچ او سربراہ نے اس طرح کی کارروائی کی ہے۔

      ٹیڈروس نے کہا، ’'مختصراً ہم ایک ایسی وبا کا سامنا کر رہے ہیں جو  ٹرانسمیشن کے نئے ذرائع کے ذریعہ تیزی سے دنیا بھر میں پھیل گیا ہے اور اس بیماری کے بارے میں ہمارے پاس کافی کم جانکاری ہے اور یہ بین الاقوامی صحت ضوابط کی اہلیت کو پورا کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا، ’میں جانتا ہوں کہ یہ کوئی آسان یا سیدھا عمل نہیں رہا ہے اور اس لئے کمیٹی کے اراکین کے مختلف نظریے ہیں‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: