உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Rishi Sunak: کیاہندنژادرشی سونک بن سکتےہیں برطانوی وزیراعظم؟ برطانیہ میں کیاہےہندوستانی تارکین وطن کی تاریخ

    رشی سونک

    رشی سونک

    برطانیہ میں تارکین وطن کی آمد کی دوسری لہر 60 اور 70 کی دہائیوں میں آئی جب ہندوستانی نژاد تارکین وطن یوگنڈا، کینیا اور تنزانیہ سے نکالے جانے کے بعد برطانیہ پہنچے۔ ان مہاجرین کا تعلق افریقی ممالک کے امیر تاجر طبقے سے تھا

    • Share this:
      ہندوستانی نژاد رشی سونک (Rishi Sunak) برطانیہ کے اگلے وزیر اعظم بننے کی دوڑ میں سرکردہ دعویدار ہیں۔ وہ کنزرویٹو پارٹی (Conservative party) سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ اگرچہ نہ تو ہندوستانی نژاد سونک اور نہ ہی ان کے والدین ہندوستان میں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کی نامزدگی برطانیہ اور خاص طور پر برطانوی سیاست میں ہندوستانیوں کی دلچسپ تاریخ کو سامنے لاتی ہے۔

      سونک 2020 میں برطانوی تاریخ میں ’سب سے زیادہ ہندوستانی کابینہ‘ کا حصہ بن گئے، جیسا کہ دی گارڈین نے ایک رپورٹ میں اس بات کی وضاحت کی ہے۔ تاہم 1700 کی دہائی سے برطانیہ میں رہنے کے باوجود برطانوی سیاست میں ہندوستانیوں کے لیے یہ ایک طویل راستہ رہا ہے۔

      انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں امریکی مورخ رچرڈ ٹی شیفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 18ویں صدی کے آغاز سے برطانیہ میں آباد ہونے والے پہلے ہندوستانی غریب ملاح تھے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے۔ ان ابتدائی ہجرت کرنے والوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہندوستانی تاجر طبقے بنیادی طور پر بمبئی کے گجراتی اور پارسی اور جنوب سے آنے والے سرمایہ دار تھے۔

      اس کے بعد عالمی جنگ میں لڑنے کے لیے ہندوستانی فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کو انگلینڈ لایا گیا، جن میں سکھوں کی تعداد 20 فیصد تھی، اور بہت سے لوگوں نے جنگ کے بعد واپس اسی ملک کو اپنا وطن ثانی بنایا۔

      دی گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق پھر برطانیہ میں ہندوستانی ہجرت دو اہم لہروں میں ہوئی۔ پہلا واقعہ 1940 اور 50 کی دہائی کے آخر میں تھا، جب یکے بعد دیگرے حکومتوں کے ذریعہ برطانیہ میں مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ہندوستان سے تارکین وطن کو بھرتی کیا گیا۔ صنعت اور مینوفیکچرنگ میں کام کرتے ہوئے وہ برطانیہ کی نسل پرستی اور مزدور یونین مخالف تحریکوں میں شامل تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ آج تک یہ کمیونٹیز غیر متناسب طور پر ورکنگ کلاس اور لیبر ووٹنگ ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:

      برطانیہ میں تارکین وطن کی آمد کی دوسری لہر 60 اور 70 کی دہائیوں میں آئی جب ہندوستانی نژاد تارکین وطن یوگنڈا، کینیا اور تنزانیہ سے نکالے جانے کے بعد برطانیہ پہنچے۔ ان مہاجرین کا تعلق افریقی ممالک کے امیر تاجر طبقے سے تھا اور آبادی کا ایک معمولی فیصد ہونے کے باوجود ان کے پاس نجی غیر زرعی اثاثوں کا بڑا حصہ تھا۔



      جب وہ برطانیہ ہجرت کر گئے تو وہ اپنے ساتھ خاصی دولت لے کر آئے۔ سنک، پٹیل اور اٹارنی جنرل سویلا بریورمین ان مہاجرین کی اولاد ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: